پشاور: خیبر پختونخوا پولیس کے دورانِ ملازمت جان دینے والے 54 اہلکاروں کے خاندانوں کو گورنر ہاؤس پشاور میں پلاٹوں کے الاٹمنٹ لیٹرز فراہم کیے گئے۔ تقریب میں شہدا کے معاوضے میں اضافے اور پولیس کی تنخواہیں دیگر صوبوں کے برابر کرنے کا اعلان بھی کیا گیا۔
گورنر راج کے پہلے ہفتے میں منعقد ہونے والی تقریب میں شہدا کے اہلخانہ نے شرکت کی۔ حکام نے پولیس اہلکاروں کی قربانیوں کو سراہا اور متاثرہ خاندانوں کو مزید تعاون کی یقین دہانی کرائی۔ تقریب میں ان خاندانوں کی مدد کی اہمیت پر زور دیا گیا جنہوں نے اپنے پیاروں کو فرائض کی ادائیگی کے دوران کھو دیا۔
حکام نے سابقہ صوبائی قیادت کی سکیورٹی معاملات سے متعلق حکمت عملی پر بھی تنقید کی۔ ان کے مطابق کوہاٹ پولیس لائنز پر حملے کے 17 دن بعد بھی سیاسی سرگرمیاں اور لانگ مارچ کی تیاریاں جاری تھیں۔ انہوں نے کرک کے قریب ایس ایچ او داؤد خان اور ان کے گن مین کی شہادت کا حوالہ دیتے ہوئے الزام لگایا کہ اس وقت بھی صوبائی قیادت کی توجہ سیاسی سرگرمیوں پر تھی۔
حکام کا کہنا تھا کہ سابقہ صوبائی انتظامیہ کو پہلی ایپکس کمیٹی کا اجلاس بلانے میں 112 دن لگے۔ اس کے برعکس، موجودہ گورنر انتظامیہ نے گورنر راج کے پہلے روز ہی اہم اجلاس طلب کر لیا۔
حکام نے دورانِ ملازمت شہید ہونے والے پولیس اہلکاروں کے معاوضے کا پیکج بڑھا کر ڈیڑھ کروڑ روپے کرنے کا اعلان کیا۔ اس کے علاوہ شہید اہلکار کی بیٹی کی شادی کے لیے 10 لاکھ روپے اور رہائش کے لیے مالی امداد دینے کا بھی اعلان کیا گیا۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات متاثرہ خاندانوں کے مالی بوجھ کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔
تقریب میں پولیس اہلکاروں کی تنخواہوں کا معاملہ بھی اٹھایا گیا۔ حکام کے مطابق خیبر پختونخوا پولیس کے اہلکار گزشتہ 13 برس سے دیگر صوبوں کے پولیس اہلکاروں کے مقابلے میں کم تنخواہیں وصول کر رہے تھے۔ اب ان کی تنخواہیں دوسرے صوبوں کے برابر کرنے کا اعلان کیا گیا ہے۔
حکام نے کہا کہ صوبائی انتظامیہ امن و امان، پولیس اہلکاروں کی فلاح و بہبود اور آئین کی بالادستی کو ترجیح دے گی۔ ان کے مطابق صوبے کے معاملات سیاسی محاذ آرائی کے بجائے قانونی اور انتظامی طریقوں سے چلائے جائیں گے۔ ان اقدامات کا مقصد پولیس اہلکاروں اور شہدا کے خاندانوں کے لیے حکومتی معاونت کو بہتر بنانا ہے۔