لاہور ہائیکورٹ نے بانی پاکستان تحریک انصاف عمران خان کی بہنوں کی بازیابی سے متعلق درخواست پر سیکرٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو 28 اکتوبر کو ذاتی حیثیت میں طلب کرلیا۔
جسٹس عبہر گل نے درخواست پر سماعت کی، جس کے دوران عظمیٰ خان کے شوہر احد خان نے عدالت سے استدعا کی کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو بھی طلب کیا جائے تاکہ معاملے پر مزید کارروائی ہوسکے۔
ڈپٹی کمشنر لاہور کو فریق نہ بنانے پر عدالت کا سوال
سماعت کے دوران جسٹس عبہر گل نے ریمارکس دیے کہ جب ڈپٹی کمشنر لاہور کو درخواست میں فریق ہی نہیں بنایا گیا تو انہیں عدالت میں کیسے طلب کیا جاسکتا ہے۔
عدالت نے درخواست گزار کے وکیل سے بھی استفسار کیا کہ ڈپٹی کمشنر لاہور کو مقدمے میں فریق کیوں نہیں بنایا گیا۔ اس موقع پر نظر بندی کے احکامات اور ان کی مدت ختم ہونے سے متعلق معاملہ زیر بحث آیا۔
تینوں بہنوں کے نظر بندی کے احکامات ختم ہونے کا مؤقف
درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ عمران خان کی تینوں بہنوں کے نظر بندی کے احکامات 19 اور 20 اکتوبر کو ختم ہوچکے ہیں۔ وکیل کے مطابق ڈپٹی کمشنر کی جانب سے جاری کردہ نظر بندی کا نوٹیفکیشن بھی اپنی مدت پوری کرچکا ہے، اسی وجہ سے انہیں درخواست میں فریق نہیں بنایا گیا۔
وکیل کے مؤقف کے بعد عدالت نے سیکرٹری داخلہ پنجاب اور جیل سپرنٹنڈنٹ کو آئندہ سماعت پر ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کی ہدایت جاری کردی۔
28 اکتوبر کو کیس کی مزید سماعت ہوگی
لاہور ہائیکورٹ نے دونوں افسران کو 28 اکتوبر کو عدالت میں پیش ہونے کا حکم دیا ہے۔ کیس کی آئندہ سماعت پر متعلقہ حکام کی پیشی اور عدالت کی مزید کارروائی اہم ہوگی۔
درخواست عمران خان کی بہنوں کی بازیابی سے متعلق ہے، جبکہ نظر بندی کے احکامات کی مدت ختم ہونے کا معاملہ بھی سماعت کے دوران سامنے آیا۔