پولیو

پاکستان میں پولیو کا چوتھا کیس رپورٹ، بنوں سے متاثرہ بچے کی تصدیق

پاکستان میں رواں سال پولیو کا چوتھا کیس سامنے آگیا ہے، جس کی تصدیق خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں سے ہوئی ہے۔ قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے مطابق نئے کیس کے سامنے آنے کے بعد ملک میں رواں سال پولیو سے متاثرہ بچوں کی تعداد چار ہوگئی ہے۔

حکام کے مطابق پولیو وائرس سے متاثرہ بچہ تحصیل میریان کی یونین کونسل نورڑ کا رہائشی ہے۔ رواں سال رپورٹ ہونے والے چار کیسز میں سے تین کیسز بنوں ڈویژن سے سامنے آچکے ہیں، جس کے باعث جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو کے حوالے سے تشویش بدستور برقرار ہے۔

قومی ایمرجنسی آپریشنز سینٹر کے حکام کا کہنا ہے کہ بنوں ڈویژن میں سکیورٹی مسائل کے باعث پولیو ٹیموں کی بچوں تک مسلسل رسائی متاثر ہو رہی ہے۔ یونین کونسل نورڑ میں بھی پولیو ٹیمیں 2025 سے بچوں تک باقاعدگی کے ساتھ نہیں پہنچ سکیں، جس کے نتیجے میں کئی بچے ویکسین سے محروم رہ گئے ہیں۔

حکام کے مطابق ویکسین سے محروم بچوں کی موجودگی جنوبی خیبرپختونخوا میں پولیو وائرس کی منتقلی اور گردش کے لیے خطرہ بن رہی ہے۔ اگرچہ ملک کے مجموعی حالات میں پولیو وائرس کی منتقلی میں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم جنوبی خیبرپختونخوا اب بھی وائرس کے لیے حساس علاقہ ہے۔

این ای او سی نے بتایا کہ پاکستان میں گزشتہ سال یعنی 2025 کے دوران پولیو کے مجموعی طور پر 31 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ نئے کیس کے سامنے آنے کے بعد حکام نے ایک بار پھر والدین پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے بچوں کو ہر انسدادِ پولیو مہم کے دوران ویکسین کے قطرے لازمی پلائیں۔

ملک گیر انسدادِ پولیو مہم 21 سے 27 ستمبر تک جاری رہے گی، جس کے دوران تقریباً 3 کروڑ 10 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ حکام کے مطابق مہم کا مقصد بچوں کو وائرس سے محفوظ رکھنا اور ملک میں پولیو کے پھیلاؤ کو مزید محدود کرنا ہے۔

این ای او سی کے مطابق پولیو ویکسین محفوظ اور مؤثر ہے اور دنیا کے 195 ممالک میں استعمال کی جا چکی ہے۔ پاکستان میں پولیو کے مکمل خاتمے کے لیے ویکسینیشن کے ساتھ ساتھ بچوں تک مسلسل رسائی اور سکیورٹی چیلنجز کا حل بھی انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین