نادرا شناختی کارڈ

لاہور ہائیکورٹ کا نادرا کو شناختی کارڈ نمبر درست کرنے کا حکم

لاہور ہائیکورٹ نے نادرا کو ایک شہری کے کمپیوٹرائزڈ قومی شناختی کارڈ (سی این آئی سی) نمبر کا آخری ہندسہ درست کرنے کا حکم دے دیا۔ عدالت نے نادرا کی اپیل خارج کرتے ہوئے ماتحت عدالتوں کے فیصلے بھی برقرار رکھے ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے شہری ساجد مقصود کے مقدمے کی سماعت کی۔ دوران سماعت عدالت کو بتایا گیا کہ شہری کا ریکارڈ ابتدا میں خاتون کے طور پر درج تھا، جسے بعد میں درست کیا گیا۔ تاہم نادرا کی جانب سے نیا شناختی کارڈ جاری کیے جانے کے باوجود شناختی نمبر کا آخری ہندسہ تبدیل نہیں کیا گیا۔

عدالت میں بتایا گیا کہ جنس سے متعلق ریکارڈ کی درستگی کے باوجود مختلف اداروں کے ریکارڈ میں شہری کی جنس خاتون ہی ظاہر ہوتی رہی۔ اس صورتحال کے باعث سرکاری ریکارڈ میں موجود معلومات اور شہری کی درست شناخت کے درمیان تضاد برقرار رہا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ نادرا شناختی نمبر درست نہ کرنے کے حوالے سے کوئی واضح قانونی ممانعت ثابت نہیں کرسکا۔ عدالت کے مطابق کسی غلطی کو محض انتظامی یا تکنیکی بنیاد پر مستقل طور پر برقرار نہیں رکھا جاسکتا۔

عدالت نے قرار دیا کہ اگر موجودہ شناختی نمبر تبدیل کرنا ضروری ہو تو نادرا نیا شناختی نمبر جاری کرے۔ تاہم سابقہ تمام ریکارڈ نئے شناختی نمبر پر منتقل کیا جائے تاکہ شہری کے نام سے الگ یا دوسری شناخت تشکیل نہ پائے۔

لاہور ہائیکورٹ نے شناختی نمبروں کے اجرا سے متعلق قانونی طریقہ کار میں ممکنہ ترمیم کی ضرورت کی جانب بھی توجہ دلائی۔ عدالت کے مطابق ایسے معاملات میں ایسا نظام ہونا چاہیے جو شہریوں کے درست ریکارڈ کی بحالی میں رکاوٹ نہ بنے۔

عدالت نے نادرا کو فیصلے پر عملدرآمد کرتے ہوئے 60 روز کے اندر رپورٹ جمع کرانے کی ہدایت کردی۔ یوں عدالت نے شہری کے ریکارڈ میں موجود تضاد کو دور کرنے اور سابقہ معلومات کو نئی شناخت کے ساتھ منسلک رکھنے کے لیے واضح طریقہ کار مقرر کردیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین