لاہور ہائیکورٹ شناختی کارڈ فیصلہ

شناختی کارڈ شہری کا بنیادی حق، بلاک کرنے کا حکم کالعدم: لاہور ہائیکورٹ

لاہور ہائیکورٹ شناختی کارڈ فیصلہ میں عدالت نے قرار دیا ہے کہ قومی شناختی کارڈ شہری کا بنیادی حق ہے جسے اس سے نہیں چھینا جا سکتا۔ عدالت نے فیملی کورٹ کی جانب سے شہری کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم کالعدم قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ شناختی کارڈ شہری کی شناخت کا بنیادی ثبوت ہے۔

لاہور ہائیکورٹ کے جسٹس مزمل اختر شبیر نے شہری کی اپیل پر آٹھ صفحات پر مشتمل تحریری فیصلہ جاری کیا۔ درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا تھا کہ فیملی کورٹ نے عدم پیشی کی بنیاد پر اس کا شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم دیا تھا۔

عدالتی فیصلے میں کہا گیا کہ قومی شناختی کارڈ ہر شہری کی شناخت ثابت کرنے والی بنیادی دستاویز ہے اور اس کے ذریعے شہری مختلف سرکاری اور نجی خدمات سے استفادہ کرتا ہے۔ ایسے بنیادی حق سے کسی شہری کو محروم کرنا قانون کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے ہی ممکن ہو سکتا ہے۔

فیصلے میں مزید کہا گیا کہ فیملی کورٹ کو کسی شہری کا قومی شناختی کارڈ بلاک کرنے کا اختیار حاصل نہیں۔ عدالت نے نشاندہی کی کہ اس حوالے سے سپریم کورٹ پہلے ہی واضح قانونی ہدایات جاری کر چکی ہے جن پر عمل درآمد ضروری ہے۔

درخواست گزار کے وکیل نے عدالت کو بتایا کہ جب فیملی کورٹ نے طلب کیا تو درخواست گزار پاکستان میں موجود نہیں تھا، اس لیے وہ مقررہ تاریخ پر پیش نہیں ہو سکا۔ وکیل کے مطابق محض عدم پیشی کی بنیاد پر شناختی کارڈ بلاک کرنا قانونی طور پر درست اقدام نہیں تھا۔

عدالتی ریکارڈ کے مطابق درخواست گزار کی اہلیہ نے نان و نفقہ کے مقدمے پر عملدرآمد کے لیے فیملی کورٹ سے رجوع کیا تھا۔ کارروائی کے دوران عدم پیشی پر فیملی کورٹ نے شناختی کارڈ بلاک کرنے کا حکم جاری کیا، جسے بعد ازاں لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کیا گیا۔

لاہور ہائیکورٹ نے اپنے فیصلے میں اس اصول کو دوبارہ واضح کیا کہ شہریوں کے بنیادی حقوق کو قانونی اختیار کے بغیر محدود نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فیصلہ مستقبل میں ایسے مقدمات کے لیے بھی اہم نظیر تصور کیا جا رہا ہے جہاں شناختی کارڈ بلاک کرنے کے اختیارات کا سوال اٹھے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین