نریندر مودی نیوزی لینڈ دورہ جمعہ کو اس وقت شروع ہوا جب بھارتی وزیراعظم آزاد تجارتی معاہدے کے فروغ اور دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے کے لیے نیوزی لینڈ پہنچے۔ یہ گزشتہ چالیس برسوں میں کسی بھی بھارتی وزیراعظم کا نیوزی لینڈ کا پہلا دورہ ہے، تاہم اس کے ساتھ ہی معاہدے کی بعض شقوں پر ملکی سطح پر سیاسی اختلافات بھی سامنے آ رہے ہیں۔
اے ایف پی کے مطابق یہ دورہ 6 سے 11 جولائی تک جاری علاقائی سفر کا آخری مرحلہ ہے، جس کے دوران نریندر مودی انڈونیشیا اور آسٹریلیا کا بھی دورہ کر چکے ہیں۔ نیوزی لینڈ میں وہ اعلیٰ حکام سے ملاقاتوں کے علاوہ مختلف کاروباری اور عوامی تقریبات میں بھی شرکت کریں گے۔
نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن نے اس دورے کو دونوں ممالک کے درمیان "کامیاب شراکت داری” کی علامت قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اپریل میں طے پانے والا آزاد تجارتی معاہدہ تجارت، سرمایہ کاری اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
تاہم حکمران اتحاد کے بعض ارکان نے معاہدے میں شامل امیگریشن اور ویزا سے متعلق شقوں پر اعتراضات اٹھائے ہیں۔ نیوزی لینڈ فرسٹ پارٹی سے تعلق رکھنے والے بعض رہنماؤں کے بیانات پر بھارتی برادری اور دیگر حلقوں نے سخت ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
Reached Auckland a short while ago. Thankful to Prime Minister Luxon for the welcome at the airport.
This visit is historic, being the first Prime Ministerial visit to New Zealand in four decades. I look forward to holding talks with Prime Minister Luxon and discussing the… pic.twitter.com/qhUfkaFfHF
— Narendra Modi (@narendramodi) July 10, 2026
رپورٹس کے مطابق حالیہ دنوں میں نیوزی لینڈ میں مقیم بھارتی برادری کے خلاف نفرت انگیز بیانات اور نسلی تعصب کے بعض واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ کمیونٹی رہنماؤں اور انسانی حقوق کے نمائندوں نے ایسے رجحانات کی مذمت کرتے ہوئے حکومت سے مؤثر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔
سیاسی تنازع کے باوجود امکان ظاہر کیا جا رہا ہے کہ آزاد تجارتی معاہدہ پارلیمنٹ سے منظوری حاصل کر لے گا۔ اپنے 24 گھنٹے کے دورے کے دوران نریندر مودی گورنمنٹ ہاؤس کی تقریب، کاروباری اور کھیلوں کی سرگرمیوں میں شرکت کے علاوہ آکلینڈ کے اسپارک ایرینا میں تقریباً 10 ہزار بھارتی نژاد افراد سے خطاب بھی کریں گے۔
دونوں ممالک کے حکام کا کہنا ہے کہ یہ دورہ بھارت اور نیوزی لینڈ کے درمیان تجارت، سرمایہ کاری اور علاقائی تعاون کو مزید فروغ دے گا۔ سفارتی حلقوں کے مطابق باہمی شراکت داری کو مضبوط بنانا دونوں ممالک کے مشترکہ اقتصادی اور تزویراتی مفادات کے لیے اہم قدم تصور کیا جا رہا ہے۔