پاکستان کی عالمی سفارتکاری

پاکستان کی عالمی سفارتکاری مضبوط، مودی کی تنہائی کی مہم ناکام قرار

عرب میڈیا کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کی عالمی سفارتکاری مسلسل مضبوط ہو رہی ہے جبکہ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی پاکستان کو عالمی سطح پر تنہا کرنے کی کئی سالہ کوششیں مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کر سکیں۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان نے حالیہ برسوں میں اپنے سفارتی روابط کو مزید وسعت دی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ 2016 میں پاکستان کو عالمی سطح پر الگ تھلگ کرنے کا بھارتی اعلان عملی طور پر کامیاب نہیں ہو سکا۔ اس کے برعکس پاکستان نے مختلف عالمی طاقتوں اور علاقائی ممالک کے ساتھ تعلقات کو برقرار رکھا اور کئی شعبوں میں تعاون کو فروغ دیا۔

پاکستان کی عالمی سفارتکاری کے حوالے سے رپورٹ میں کہا گیا کہ اسلام آباد آج بھی واشنگٹن، بیجنگ، تہران اور ریاض سمیت اہم دارالحکومتوں کے ساتھ مؤثر رابطے رکھتا ہے۔ یہی روابط پاکستان کو خطے کے اہم سفارتی کرداروں میں شامل کرتے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق 2025 میں پاک بھارت کشیدگی کے دوران عالمی سطح پر بیانیے کی جنگ میں پاکستان کو سفارتی فائدہ حاصل ہوا۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کئی ممالک نے الزامات اور دعوؤں کو بغیر شواہد قبول کرنے کے بجائے محتاط رویہ اختیار کیا۔

رپورٹ میں پاکستان اور چین کے مضبوط تعلقات کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان بڑھتا ہوا تعاون خطے کی سیاست میں ایک اہم عنصر قرار دیا گیا، جبکہ بنگلا دیش کے ساتھ تعلقات میں بہتری کو بھی مثبت پیش رفت قرار دیا گیا۔

پاکستان کی عالمی سفارتکاری کے نتیجے میں خلیجی ممالک کے ساتھ تعلقات میں بھی وسعت آئی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستان کو خطے میں ایک ابھرتے ہوئے سکیورٹی اور تزویراتی شراکت دار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، جس سے اس کی علاقائی اہمیت میں اضافہ ہوا ہے۔

رپورٹ کے اختتام میں کہا گیا کہ معدنی وسائل، سرمایہ کاری کے مواقع اور فعال سفارتی حکمت عملی نے پاکستان کو عالمی پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز بنایا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر یہ سفارتی رفتار برقرار رہی تو پاکستان مستقبل میں مزید مؤثر بین الاقوامی کردار ادا کر سکتا ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین