مجتبیٰ خامنہ ای کا انتقامی بیان اس وقت عالمی توجہ کا مرکز بن گیا جب ایرانی سرکاری ذرائع سے منسوب ایک تحریری پیغام میں اپنے والد آیت اللہ علی خامنہ ای کی ہلاکت کے بعد انتقام لینے کے عزم کا اظہار کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ ذمہ دار افراد کو انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے گا۔
ایرانی خبر رساں ادارے فارس سے منسوب رپورٹ کے مطابق اس تحریری پیغام میں علی خامنہ ای اور دیگر ہلاک ہونے والوں کے خون کا بدلہ لینے کا عزم ظاہر کیا گیا۔ بیان میں کہا گیا کہ یہ اقدام قوم کی خواہش قرار دیا گیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق مجتبیٰ خامنہ ای نے اپنے والد کی ہلاکت کے بعد ایران کی اعلیٰ قیادت سنبھالی، تاہم وہ فروری میں ہونے والے حملے کے بعد سے عوامی سطح پر نظر نہیں آئے۔ وہ اپنے والد کی آخری رسومات میں بھی شریک نہیں ہوئے۔
متعدد میڈیا رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مجتبیٰ خامنہ ای حملے میں زخمی ہوئے تھے، تاہم ایرانی حکام نے اس حوالے سے کوئی باضابطہ تصدیق نہیں کی۔ حالیہ عرصے میں ایرانی سرکاری میڈیا ان سے منسوب متعدد تحریری بیانات جاری کرتا رہا ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرق وسطیٰ میں کشیدگی برقرار ہے اور مختلف سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ تجزیہ کاروں کے مطابق اس قسم کے بیانات خطے کی صورتحال پر مزید توجہ مرکوز کر سکتے ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کی صحت، عوامی عدم موجودگی اور بیان کی بعض تفصیلات کے بارے میں آزاد ذرائع سے مکمل تصدیق دستیاب نہیں ہے۔ اس لیے ان معاملات پر مختلف رپورٹس سامنے آتی رہی ہیں۔
مجتبیٰ خامنہ ای کا انتقامی بیان ایران کی اندرونی قیادت اور علاقائی سلامتی سے متعلق جاری بحث میں ایک نئی پیش رفت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ آئندہ صورتحال پر عالمی برادری اور مبصرین کی نظر برقرار ہے۔