روسی شہری ہلاکتیں

روس کا دعویٰ، یوکرینی حملوں میں 38 شہری ہلاک

روسی شہری ہلاکتیں ایک بار پھر روس۔یوکرین جنگ کے تناظر میں زیر بحث آ گئی ہیں۔ روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زخارووا نے دعویٰ کیا ہے کہ گزشتہ ایک ہفتے کے دوران یوکرینی حملوں میں 38 روسی شہری ہلاک ہوئے، جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے، جبکہ سیکڑوں دیگر افراد متاثر ہوئے۔

ماریہ زخارووا کے مطابق مذکورہ عرصے میں مجموعی طور پر 308 شہری حملوں سے متاثر ہوئے۔ ان کے بقول 38 افراد جان کی بازی ہار گئے جبکہ 270 زخمی ہوئے، جن میں آٹھ بچے بھی شامل ہیں۔

روسی ترجمان نے الزام عائد کیا کہ یوکرینی افواج نے شہری آبادی اور بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنانے کی کارروائیوں میں شدت پیدا کی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ حالیہ حملوں سے غیر فوجی علاقوں میں جانی نقصان میں اضافہ ہوا ہے۔

انہوں نے مزید دعویٰ کیا کہ یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کی حکومت مغربی ممالک کی فراہم کردہ فوجی امداد کے مؤثر استعمال کا تاثر دینا چاہتی ہے تاکہ یوکرین کے لیے مزید عسکری تعاون حاصل کیا جا سکے۔

دوسری جانب یوکرین ماضی میں ایسے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے اور اس کا مؤقف ہے کہ اس کی فوجی کارروائیاں صرف جائز عسکری اہداف تک محدود ہیں اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق کی جاتی ہیں۔

یہ دعوے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب روس اور یوکرین کے درمیان مختلف محاذوں پر شدید لڑائی جاری ہے اور دونوں ممالک ایک دوسرے پر حملوں اور جانی نقصانات کے الزامات عائد کر رہے ہیں۔ جنگی حالات کے باعث فریقین کے دعوؤں کی آزادانہ تصدیق کرنا ممکن نہیں۔

روس کی جانب سے جاری کردہ اعداد و شمار کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی۔ بین الاقوامی تنظیمیں مسلسل شہریوں کے تحفظ، انسانی بحران کے خاتمے اور جنگ کے سفارتی حل کے لیے کوششیں تیز کرنے پر زور دے رہی ہیں۔

 

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین