نیپرا

نیپرا کی بلند عمارتوں اور صنعتی صارفین کیلئے نئے گرڈ شیئرنگ چارجز کی تجویز

پاکستان کے بجلی کے ریگولیٹر نیشنل الیکٹرک پاور ریگولیٹری اتھارٹی (نیپرا) نے بلند عمارتوں اور بعض صنعتی صارفین کیلئے گرڈ شیئرنگ چارجز سے متعلق نئی ترامیم تجویز کردی ہیں۔

مجوزہ تبدیلیوں کے مطابق ایسی عمارتوں کے مالکان، جنہیں 500 کے وی اے سے زیادہ گنجائش والے مخصوص ٹرانسفارمر کی ضرورت ہوگی، گرڈ شیئرنگ چارجز ادا کرنے کے ذمہ دار ہوں گے۔ اس تجویز کا اطلاق ایسی بڑی رہائشی اور کمرشل عمارتوں پر ہوسکتا ہے جنہیں زیادہ گنجائش والے بجلی کے انفرااسٹرکچر کی ضرورت ہوتی ہے۔

نیپرا نے اپنے کنزیومر سروس مینوئل میں مجوزہ ترامیم پر عوام سے رائے طلب کرلی ہے۔ ان تبدیلیوں میں صنعتی اور اسٹیل فرنس صارفین کیلئے موجودہ چارجز پر نظرثانی بھی شامل ہے۔

مجوزہ قواعد کے تحت صنعتی صارفین کو مجموعی طور پر 15 میگاواٹ تک بجلی کے متعدد کنکشنز حاصل کرنے کی اجازت دینے کی تجویز بھی سامنے آئی ہے۔ اس تبدیلی کا مقصد صنعتی صارفین کے متعدد کنکشنز اور بجلی کے استعمال سے متعلق موجودہ طریقہ کار میں تبدیلی لانا ہے۔

نیپرا نے عارضی طور پر بجلی منقطع کرنے کے قوانین ہر عمارت مجوزہ قانون کے تحت گرڈ شیئرنگ چارجز ادا کرنے کی پابند ہوسکتی کو مزید سخت کرنے کی تجویز بھی دی ہے۔ اس کے علاوہ بجلی چوری کے معاملات میں ڈیٹیکشن بل جاری کرنے کی مدت 12 ماہ تک بڑھانے کی تجویز زیر غور ہے، جس سے بجلی کی تقسیم کار کمپنیوں کو مبینہ چوری کی صورت میں زیادہ طویل مدت کا احاطہ کرنے کی اجازت مل سکتی ہے۔

گرڈ شیئرنگ چارجز کے حوالے سے مجوزہ تبدیلی میں 500 کے وی اے سے زیادہ گنجائش والے مخصوص ٹرانسفارمر کی ضرورت رکھنے والی عمارتوں کو شامل کیا گیا ہے۔ ایسی ہر عمارت مجوزہ قانون کے تحت گرڈ شیئرنگ چارجز ادا کرنے کی پابند ہوسکتی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین