شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو کٹھ پتلی قرار دیا

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو امریکا کی ‘کٹھ پتلی’ قرار دے دیا

شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کو کٹھ پتلی قرار دیا اور امریکہ کی قیادت میں ہونے والی رِم آف دی پیسفک (RIMPAC) بحری مشق میں شرکت پر شدید تنقید کی۔ شمالی کوریا کی سرکاری خبر رساں ایجنسی کے سی این اے (KCNA) نے خبردار کیا کہ سیئول اور واشنگٹن خطے میں کسی بھی غیر متوقع کشیدگی کے ذمہ دار ہوں گے۔

یہ ردعمل گزشتہ ہفتے ہوائی میں ہونے والی رِم پیک مشق کے بعد سامنے آیا، جس میں پہلی بار جنوبی کوریا کی بحریہ نے مشترکہ بحری دستوں کی قیادت کی۔ ہر دو سال بعد ہونے والی یہ مشق دنیا کی سب سے بڑی بین الاقوامی بحری فوجی مشق سمجھی جاتی ہے۔

منتظمین کے مطابق اس سال تقریباً 30 ممالک نے مشق میں حصہ لیا، جن میں جاپان، آسٹریلیا اور کینیڈا بھی شامل تھے۔ اس مشق کا مقصد مختلف ممالک کی بحری افواج کے درمیان تعاون، مشترکہ تیاری اور سمندری سلامتی کو بہتر بنانا ہے۔

کے سی این اے نے الزام لگایا کہ جنوبی کوریا امریکہ کی بڑھتی ہوئی فوجی حکمت عملی کا اہم حصہ بن چکا ہے۔ رپورٹ میں جنوبی کوریا اور جاپان کے دفاعی تعاون اور نیٹو کے ساتھ سیئول کے بڑھتے تعلقات پر بھی تنقید کی گئی۔

تقریباً ایک سال سے زائد عرصے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ شمالی کوریا نے جنوبی کوریا کے لیے دوبارہ "کٹھ پتلی” کی اصطلاح استعمال کی ہے۔ اس سے قبل یہ لفظ 2025 میں ایک فوجی تربیتی حادثے کے بعد استعمال کیا گیا تھا۔

شمالی کوریا نے دعویٰ کیا کہ رِم پیک صرف معمول کی فوجی مشق نہیں بلکہ امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طاقت کا مظاہرہ ہے، جس کا ہدف انڈو پیسیفک کے ممالک ہیں۔ اس نے حالیہ امریکہ-جنوبی کوریا مشترکہ میرین مشقوں پر بھی اعتراض کیا۔

یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب شمالی کوریا اپنی بحری اور دفاعی صلاحیتوں میں اضافہ کر رہا ہے۔ رواں ماہ سرکاری میڈیا نے اطلاع دی تھی کہ رہنما کم جونگ اُن نے نئے 5 ہزار ٹن وزنی ڈسٹرائر کانگ کون پر اسٹریٹیجک کروز میزائل اور دیگر ہتھیاروں کے نظام کا جائزہ لیا۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین