تیل کی قیمتوں میں اضافہ

مشرق وسطیٰ میں بڑھتی کشیدگی، عالمی منڈی میں تیل مہنگا

تیل کی قیمتوں میں اضافہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب امریکہ اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مزید شدت اختیار کر گئی، جس سے عالمی توانائی کی ترسیل کے بارے میں خدشات بڑھ گئے۔ سرمایہ کار خاص طور پر آبنائے ہرمز اور بحیرہ احمر کے راستوں پر ممکنہ رکاوٹوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔

جمعہ کو برینٹ خام تیل کی قیمت 84.30 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی، جبکہ امریکی ویسٹ ٹیکساس انٹرمیڈیٹ (WTI) خام تیل 79.11 ڈالر فی بیرل پر ٹریڈ ہوا۔ دونوں عالمی بینچ مارک اس ہفتے تقریباً 12 فیصد اضافے کی جانب گامزن ہیں۔

ماہرین کے مطابق تیل کی قیمتوں میں حالیہ اضافہ مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور عالمی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات کے باعث ہوا ہے۔ سرمایہ کاروں کو خدشہ ہے کہ اگر تنازع مزید پھیلا تو تیل کی ترسیل متاثر ہو سکتی ہے۔

رائٹرز کے مطابق ایران نے حوثی اتحادیوں سے کہا ہے کہ اگر امریکی حملوں میں ایرانی توانائی کے بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا تو بحیرہ احمر کے اہم بحری راستے کو بند کرنے کے لیے تیار رہیں۔ اس سے عالمی تیل کی سپلائی مزید متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہو سکتا ہے۔

حالیہ کشیدگی امریکی فضائی حملوں اور ایران کی جانب سے خطے میں امریکی فوجی اڈوں پر مبینہ میزائل اور ڈرون حملوں کے بعد مزید بڑھ گئی ہے۔ ان واقعات نے مشرق وسطیٰ میں وسیع تر تنازع کے خدشات کو بھی تقویت دی ہے۔

بین الاقوامی توانائی ایجنسی (IEA) کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر فاتح بیرول نے کہا ہے کہ توانائی کی سلامتی اب بھی ایک اہم مسئلہ ہے۔ ان کے مطابق اگر آئندہ چند ہفتوں میں حالات بہتر نہ ہوئے تو عالمی منڈیوں کو مزید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب تک خطے میں کشیدگی برقرار رہے گی، تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ جاری رہ سکتا ہے۔ عالمی منڈیاں فوجی پیش رفت، سفارتی کوششوں اور اہم بحری راستوں کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین