برطانوی بحری ادارے کے مطابق آبنائے ہرمز آئل ٹینکر حملہ کے واقعات میں دو آئل ٹینکرز نامعلوم پروجیکٹائل کا نشانہ بن گئے۔ واقعات کے بعد اہم آبی گزرگاہ میں تجارتی جہازوں کی سلامتی سے متعلق خدشات بڑھ گئے ہیں۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز ایجنسی کے مطابق پہلے ٹینکر کو آبنائے ہرمز سے نکلتے وقت نشانہ بنایا گیا۔ حملے کے نتیجے میں جہاز پر معمولی آگ بھڑک اٹھی اور بجلی بھی معطل ہوئی، تاہم آگ پر قابو پالیا گیا۔
پہلے واقعے میں کسی جانی نقصان یا ماحولیاتی اثرات کی اطلاع نہیں ملی۔ حملے کا نشانہ بننے والا ٹینکر اپنا سفر دوبارہ جاری رکھنے میں کامیاب رہا، تاہم اس کی روانگی اور منزل کی تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔
چند گھنٹے بعد ایک اور خام تیل بردار ٹینکر نے عمان کے مشرق میں نامعلوم پروجیکٹائل لگنے کی اطلاع دی۔ برطانوی ایجنسی کے مطابق جہاز پر موجود تمام عملہ محفوظ رہا اور ماحولیاتی نقصان کی بھی اطلاع نہیں ملی۔
آبنائے ہرمز آئل ٹینکر حملہ ایسے وقت میں ہوا ہے جب اس اہم آبی راستے کے اطراف کشیدگی برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز عالمی توانائی کی ترسیل کے لیے ایک اہم راستہ ہے جہاں سے خام تیل اور مائع قدرتی گیس منتقل ہوتی ہے۔
فروری کے آخر میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر حملوں کے بعد شروع ہونے والی مشرق وسطیٰ کی جنگ سے قبل دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کی تیل اور ایل این جی ترسیل آبنائے ہرمز سے ہوتی تھی۔ اب اس راستے پر سکیورٹی خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔
برطانوی میری ٹائم ٹریڈ آپریشنز نے کہا کہ دونوں واقعات کی تحقیقات جاری ہیں۔ تازہ واقعات نے آبنائے ہرمز میں تجارتی جہازوں کی سلامتی اور عالمی توانائی کی ترسیل پر ممکنہ اثرات سے متعلق خدشات مزید بڑھا دیے ہیں۔