باب المندب

یمنی فورسز کا اسٹریٹجک باب المندب پر کنٹرول کا دعویٰ

یمن کی حکومتی فورسز نے اہم سمندری گزرگاہ باب المندب کا کنٹرول سنبھالنے کا دعویٰ کیا ہے۔ یہ آبنائے بحیرہ احمر کو خلیج عدن سے ملاتی ہے اور خطے میں اہم تزویراتی حیثیت رکھتی ہے۔

حکومتی فورسز کے ترجمان کے مطابق یمن کی جائنٹس بریگیڈز اور نیشنز شیلڈ فورسز نے باب المندب کے اطراف میں اہم پوزیشنز سنبھال لی ہیں۔ یہ پیش رفت جاری فوجی کارروائیوں کے دوران سامنے آئی ہے۔

دوسری جانب یمن میں قانونی حکومت کی حمایت کرنے والے اتحاد کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی نے کہا ہے کہ باب المندب آبنائے کے لیے فضائی تحفظ فراہم کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ متحرک اہداف کے خلاف کارروائی جاری ہے۔

کرنل ترکی المالکی کے مطابق اتحادی طیارے یمنی مسلح افواج کو زمین پر چوبیس گھنٹے فضائی مدد فراہم کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ مدد آبنائے کے اطراف میں موجود حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں معاونت کے لیے جاری ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’ڈان آف یمن‘ کے نام سے شروع کیے گئے آپریشن کے دوران 324 اہم اہداف کو تباہ کیا گیا ہے۔ ان کے مطابق یہ کارروائیاں یمنی فورسز کی حمایت میں جاری فوجی مہم کا حصہ ہیں۔

باب المندب ایک اہم سمندری راستہ ہے جو بحیرہ احمر اور خلیج عدن کے درمیان رابطہ فراہم کرتا ہے۔ اس کی جغرافیائی اہمیت کے باعث یہاں ہونے والی فوجی پیش رفت علاقائی سلامتی اور تجارتی بحری آمدورفت پر اثر ڈال سکتی ہے۔

حالیہ پیش رفت سے ظاہر ہوتا ہے کہ باب المندب کے علاقے میں فوجی کارروائیاں بدستور جاری ہیں۔ یمن کی حکومتی فورسز نے آبنائے پر کنٹرول کا دعویٰ کیا ہے، جبکہ اتحادی حکام نے زمینی فورسز کے لیے مسلسل فضائی مدد کی تصدیق کی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین