پاکستان تجارتی خسارہ

پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39.47 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، برآمدات میں کمی ریکارڈ

وفاقی ادارہ شماریات کی جانب سے جاری کردہ رپورٹ کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کا تجارتی خسارہ بڑھ کر 39 ارب 47 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔ یہ اضافہ ملکی تجارت کے عدم توازن میں مزید بگاڑ کی نشاندہی کرتا ہے۔

گزشتہ سال کے مقابلے میں خسارے میں اضافہ

رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں تجارتی خسارے میں 21.57 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔ حکومت نے اس مالی سال کے لیے تجارتی خسارے کا ہدف 29 ارب 92 کروڑ 90 لاکھ ڈالر مقرر کیا تھا، تاہم اصل صورتحال اس ہدف سے کہیں زیادہ رہی۔

برآمدات میں کمی کا رجحان

ادارہ شماریات کے مطابق مالی سال 2025-26 کے دوران پاکستان کی برآمدات 30 ارب 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر رہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں 5.97 فیصد کمی کو ظاہر کرتی ہیں۔ حکومت نے برآمدات کا ہدف 35 ارب 28 کروڑ 20 لاکھ ڈالر مقرر کیا تھا، مگر یہ ہدف حاصل نہ ہو سکا۔

درآمدات میں اضافہ برقرار

رپورٹ میں بتایا گیا کہ اسی عرصے کے دوران درآمدات کا حجم 69 ارب 59 کروڑ 70 لاکھ ڈالر رہا، جو 7.89 فیصد اضافہ ظاہر کرتا ہے۔ درآمدات کا مقررہ ہدف 65 ارب 21 کروڑ 10 لاکھ ڈالر تھا، تاہم اصل درآمدات اس سے زیادہ رہیں۔

جون 2026 میں خسارے میں تیزی سے اضافہ

ادارہ شماریات کے مطابق صرف جون 2026 میں ماہانہ بنیادوں پر تجارتی خسارے میں 63.76 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ سالانہ بنیادوں پر یہ اضافہ 57.11 فیصد رہا۔ اس ماہ تجارتی خسارہ 4 ارب 52 کروڑ 80 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔

برآمدات اور درآمدات کی ماہانہ صورتحال

جون 2026 میں برآمدات کی مالیت 30 ارب 12 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کے مجموعی سالانہ اعداد و شمار کا حصہ رہی، جبکہ درآمدات کا ماہانہ حجم 6 ارب 76 کروڑ 70 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیا گیا۔ یہ فرق تجارتی عدم توازن کی بڑھتی ہوئی صورتحال کو ظاہر کرتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین