اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے اپنی ششماہی رپورٹ میں ایس بی پی مالی سال 2026 معاشی ترقی کی شرح 3.75 سے 4.75 فیصد کے درمیان رہنے کی پیش گوئی کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال، اندرونِ ملک سیلابی خطرات اور مشرق وسطیٰ کی کشیدگی کے باوجود پاکستان کی معاشی صورتحال میں بہتری دیکھی گئی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا کہ مشرق وسطیٰ کی جنگ پاکستان کی معیشت کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہے۔ سپلائی چین میں رکاوٹیں، مہنگائی میں اضافہ، بیرونی تجارت اور ترسیلاتِ زر پر دباؤ جیسے مسائل سامنے آ سکتے ہیں۔ تاہم اسٹیٹ بینک کے مطابق مالی سال 2026 میں مجموعی معاشی سرگرمیوں پر اس کے اثرات محدود رہنے کا امکان ہے۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ مالی سال 2026 کے پہلے نصف میں پاکستان کے معاشی اشاریوں میں نمایاں بہتری آئی۔ مہنگائی میں کمی ہوئی، زرمبادلہ کے ذخائر بہتر ہوئے اور بیرونی مالی معاونت نے معیشت کو سہارا دیا۔ رپورٹ میں ان کامیابیوں کا کریڈٹ محتاط مالیاتی اور مانیٹری پالیسیوں کو دیا گیا۔
ایس بی پی مالی سال 2026 معاشی ترقی کی پیش گوئی کے مطابق صنعتی شعبے میں بہتری نے اقتصادی سرگرمیوں کو تیز کیا۔ خدمات اور زراعت کے شعبوں نے بھی مثبت کردار ادا کیا۔ پہلے چھ ماہ میں حقیقی جی ڈی پی نمو 3.8 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً دوگنی ہے۔
رپورٹ کے مطابق معاشی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث درآمدات میں حجم کے لحاظ سے اضافہ ہوا۔ دوسری جانب چاول کی برآمدات کم ہونے سے مجموعی برآمدی آمدن متاثر ہوئی۔ اس کے باوجود بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی ترسیلاتِ زر نے تجارتی خسارے کو قابو میں رکھنے میں اہم کردار ادا کیا۔
اسٹیٹ بینک نے بتایا کہ قومی صارف قیمت اشاریہ مہنگائی کی اوسط شرح 5.2 فیصد رہی، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں کم ہے۔ تاہم عالمی سطح پر تیل اور دیگر اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے کے باعث مالی سال 2027 میں مہنگائی دوبارہ بڑھنے کا خدشہ موجود ہے۔ رپورٹ میں محتاط مانیٹری پالیسی جاری رکھنے پر زور دیا گیا۔
رپورٹ میں پاکستان کو درپیش طویل مدتی معاشی چیلنجز کی بھی نشاندہی کی گئی، جن میں کم سرمایہ کاری، کمزور برآمدات اور ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح شامل ہیں۔ اسٹیٹ بینک نے کہا کہ پائیدار ترقی کے لیے گہرے معاشی اصلاحات اور موسمیاتی تبدیلی سے نمٹنے کے لیے سرمایہ کاری ضروری ہے۔ اسی لیے ایس بی پی مالی سال 2026 معاشی ترقی کا انحصار اصلاحات اور معاشی استحکام پر ہوگا۔