ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ کے مطابق ملک میں پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور چینی کی قیمتوں میں کمی ریکارڈ کی گئی، تاہم متعدد اشیائے ضروریہ مہنگی ہو گئیں۔ وفاقی ادارہ شماریات کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق ایک ہفتے کے دوران 22 اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ، آٹھ اشیاء کی قیمتوں میں کمی جبکہ 21 اشیاء کی قیمتیں مستحکم رہیں۔
رپورٹ کے مطابق آلو کی قیمت میں 3.94 فیصد اضافہ ہوا، جو ہفتے کے دوران نمایاں اضافہ تھا۔ اسی طرح چکن 3.70 فیصد مہنگا ہوا جبکہ پیاز کی قیمت میں 3.54 فیصد اضافہ ریکارڈ کیا گیا۔
ادارہ شماریات کے اعداد و شمار کے مطابق آٹے کی قیمت میں بھی 1.61 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے علاوہ انڈے، بیف اور تازہ دودھ سمیت کئی دیگر اشیائے خورونوش کی قیمتیں بھی بڑھیں، جس سے صارفین پر اضافی مالی بوجھ پڑا۔
دوسری جانب بعض اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں کمی بھی دیکھی گئی۔ رپورٹ کے مطابق ٹماٹر کی قیمت میں 23.30 فیصد کمی آئی، جو ہفتے کے دوران سب سے بڑی کمی قرار دی گئی۔
اسی طرح دال مونگ کی قیمت 2.15 فیصد اور دال مسور کی قیمت 0.52 فیصد کم ہوئی۔ ان اشیاء کی قیمتوں میں کمی سے صارفین کو محدود ریلیف ملا، اگرچہ دیگر ضروری اشیاء کی قیمتوں میں اضافہ برقرار رہا۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ پیٹرول، ڈیزل، ایل پی جی اور چینی کی قیمتوں میں بھی کمی ریکارڈ کی گئی۔ توانائی اور چند بنیادی اشیاء کی قیمتوں میں یہ کمی مہنگائی کے مجموعی دباؤ میں کسی حد تک نرمی کا باعث بن سکتی ہے۔
حالیہ ہفتہ وار مہنگائی رپورٹ سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملک میں قیمتوں کا رجحان اب بھی غیر متوازن ہے۔ بعض اشیاء سستی ہونے کے باوجود بیشتر ضروری اشیائے خورونوش مہنگی ہونے سے عوام کو مہنگائی کے مسلسل دباؤ کا سامنا ہے۔