اسلام آباد: امریکی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال نے بھارت میں ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے جانے سے متعلق اقدامات پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے بیان نے بھارت میں ووٹ دینے کے حق اور انتخابی عمل میں شہریوں کی شرکت کے حوالے سے جاری بحث کو مزید توجہ دلائی ہے۔
پرامیلا جے پال کا کہنا تھا کہ بظاہر یہ طریقۂ کار امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کے ان اقدامات سے مماثلت رکھتا ہے جن کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ وہ امریکا میں ووٹ دینے کے حق کو کمزور کر سکتے ہیں۔ انہوں نے انتخابی عمل میں شہریوں کی شرکت اور ووٹنگ کے حق کے تحفظ کی اہمیت اجاگر کی۔
امریکی قانون ساز نے بھارت میں مبینہ جمہوریت مخالف اقدامات کے خلاف پُرامن احتجاج کرنے والے بھارتی شہریوں کے ساتھ بھی یکجہتی کا اظہار کیا۔ ان کے بیان میں انتخابی عمل میں شفافیت اور شہریوں کے جمہوری حقوق کے تحفظ سے متعلق خدشات نمایاں رہے۔
بھارت میں ووٹر لسٹوں کی نظرثانی اور ووٹرز کی اہلیت سے متعلق معاملات جمہوری عمل کے حوالے سے اہمیت رکھتے ہیں۔ انتخابی فہرستوں سے نام خارج کیے جانے پر اس وقت سوالات اٹھ سکتے ہیں جب طریقۂ کار کی شفافیت، تصدیق کے عمل اور اہل ووٹرز کے حقوق سے متعلق خدشات سامنے آئیں۔
دوسری جانب معروف بھارتی صحافی سوہاسنی حیدر نے بھی پرامیلا جے پال کا بیان سوشل میڈیا پر شیئر کیا، جس کے بعد اس معاملے پر مزید توجہ مرکوز ہوئی۔ اس پیش رفت نے انتخابی حقوق سے متعلق بحث کو بھارت سے باہر بھی نمایاں کیا ہے۔
پرامیلا جے پال کے بیان سے بھارت میں ووٹر رجسٹریشن کے معاملے کو بین الاقوامی سطح پر مزید توجہ ملی ہے۔ تاہم، ووٹر لسٹوں سے 13 کروڑ افراد کے نام خارج کیے جانے کے دعوے اور اس سے متعلق تفصیلات کی سرکاری انتخابی ریکارڈ اور معتبر ذرائع سے تصدیق ضروری ہے۔