رانا ثنا اللہ دہشت گردی پر مذاکرات

دہشتگردی کے خلاف سیاسی اتحاد ضروری، وزیراعظم مذاکرات کیلئے تیار: رانا ثنا اللہ

وزیراعظم شہباز شریف دہشت گردی کے مسئلے پر تمام سیاسی جماعتوں کے ساتھ مذاکرات کیلئے تیار ہیں۔ وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور سینیٹر رانا ثنا اللہ نے منگل کو سینیٹ اجلاس میں اظہار خیال کرتے ہوئے سیاسی قیادت کو مشترکہ حکمت عملی بنانے کی دعوت دی۔ رانا ثنا اللہ دہشت گردی پر مذاکرات کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک کو اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے اجتماعی کوششیں کرنا ہوں گی۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ سیکیورٹی مسائل سے نمٹنے کیلئے صوبائی حکومتوں کا تعاون اہم ہے۔ ان کے مطابق خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کی صورتحال کے دوران وفاقی حکومت کو صوبائی حکومت کا مطلوبہ تعاون حاصل نہیں تھا۔ تاہم انہوں نے کہا کہ بلوچستان کی صوبائی حکومت سیکیورٹی معاملات پر وفاق کے ساتھ مکمل تعاون کر رہی ہے۔

مشیر برائے سیاسی امور نے ایک بار پھر واضح کیا کہ وزیراعظم دہشت گردی کے معاملے پر تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت کیلئے تیار ہیں۔ انہوں نے سیاسی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ اختلافات ایک طرف رکھ کر قومی سلامتی کے مسئلے پر مشترکہ طور پر غور کریں۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام جماعتوں کی مشاورت سے دہشت گردی کے خلاف مؤثر حکمت عملی بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔

رانا ثنا اللہ نے قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف محمود خان اچکزئی کے حکومتی قیادت سے رابطوں کا معاملہ بھی اٹھایا۔ انہوں نے کہا کہ اچکزئی اسپیکر قومی اسمبلی کے دستخط سے قائد حزب اختلاف بنے، لیکن وہ اسپیکر چیمبر جانے کیلئے تیار نہیں ہیں۔ رانا ثنا اللہ کے مطابق انہوں نے خود اچکزئی سے ملاقات کرکے انہیں ضد چھوڑنے اور وزیراعظم سے بات چیت کرنے کا مشورہ دیا۔

سینیٹر رانا ثنا اللہ نے سیکیورٹی سے متعلق رابطوں پر بات کرتے ہوئے کہا کہ اپوزیشن کے نمائندے ایپکس کمیٹی کے اجلاسوں میں شرکت نہیں کرتے۔ ان کے مطابق ان اجلاسوں میں اہم معاملات پر کھل کر گفتگو کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے ایک فوجی میجر کی حالیہ شہادت کا بھی ذکر کیا اور کہا کہ ملک مسلسل دہشت گردی کے چیلنج کا سامنا کر رہا ہے۔

انہوں نے مزید الزام لگایا کہ بعض ملاقاتوں کے دوران اداروں کے خلاف نامناسب زبان استعمال کی جاتی ہے۔ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ملاقاتوں پر پابندیاں متعلقہ قواعد اور قوانین کے تحت عائد کی جا سکتی ہیں۔ ان کے یہ بیانات حکومت اور اپوزیشن کے درمیان جاری سیاسی اختلافات کے تناظر میں سامنے آئے ہیں، جبکہ قومی سلامتی کے معاملات پر تعاون کا سوال بھی اہمیت رکھتا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے پاکستان تحریک انصاف کے بانی عمران خان کا ذکر کرتے ہوئے الزام لگایا کہ وہ کبھی عدالتوں اور کبھی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ذریعے جیل سے باہر آنے کی کوشش کرتے ہیں۔ حکومت کی جانب سے دہشت گردی کے خلاف سیاسی تعاون کی دعوت ایک بار پھر سامنے آئی ہے۔ اب اہم سوال یہ ہے کہ آیا سیاسی جماعتیں اختلافات کم کرکے دہشت گردی کے خلاف مشترکہ حکمت عملی اور وفاقی و صوبائی حکومتوں کے درمیان بہتر رابطوں پر اتفاق کر سکتی ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین