امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیر کے روز کہا کہ واشنگٹن ایک مضبوط امریکا ایران معاہدہ چاہتا ہے، تاہم اگر مذاکرات کامیاب نہ ہوئے تو امریکا دوسرے راستے بھی اختیار کر سکتا ہے۔ نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا کہ امریکا سفارتکاری کو مکمل موقع دینا چاہتا ہے۔
روبیو کے مطابق ایران کے ساتھ بات چیت میں کچھ مثبت پیشرفت دیکھی جا رہی ہے، خاص طور پر آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے اور جوہری مذاکرات کے حوالے سے۔ ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال میں سفارتی کوششیں خطے میں کشیدگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں۔
ممکنہ امریکا ایران معاہدہ ایک محدود مدت کے فریم ورک پر مشتمل ہو سکتا ہے جس میں جوہری پروگرام اور علاقائی استحکام سے متعلق معاملات شامل ہوں گے۔ روبیو نے کہا کہ مذاکرات کی میز پر ایک مضبوط تجویز موجود ہے اور امید ہے کہ دونوں ممالک مثبت نتیجے تک پہنچ سکتے ہیں۔
آبنائے ہرمز عالمی تیل تجارت کے لیے نہایت اہم سمندری راستہ سمجھا جاتا ہے۔ اگر اس راستے میں رکاوٹ پیدا ہو تو عالمی منڈیوں اور توانائی کی قیمتوں پر براہ راست اثر پڑ سکتا ہے۔ اسی لیے امریکا اس راستے کو کھلا اور محفوظ رکھنے پر زور دے رہا ہے۔
روبیو کے بیانات سے امریکا کی مشرق وسطیٰ سے متعلق پالیسی بھی واضح ہوتی ہے۔ مبصرین کے مطابق واشنگٹن ایک طرف سفارتی مذاکرات جاری رکھنا چاہتا ہے جبکہ دوسری طرف دباؤ برقرار رکھنے کی حکمت عملی بھی اختیار کیے ہوئے ہے۔ کامیاب امریکا ایران معاہدہ خطے کی سیاست بدل سکتا ہے۔
ایران کی جانب سے ابھی تک روبیو کے بیان پر باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔ تاہم دونوں ممالک کے درمیان پس پردہ رابطوں اور سفارتی بات چیت کے جاری رہنے کے اشارے مل رہے ہیں۔ عالمی برادری ان مذاکرات پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔
روبیو نے آخر میں کہا کہ امریکا پرامن حل کو ترجیح دیتا ہے، لیکن ضرورت پڑنے پر دیگر آپشنز بھی موجود ہیں۔ اب امریکا ایران معاہدہ کا مستقبل اس بات پر منحصر ہے کہ دونوں ممالک جوہری معاملات، علاقائی سلامتی اور خلیجی استحکام پر کس حد تک اتفاق رائے پیدا کرتے ہیں۔