سعودی اتحاد نے حوثی میزائل روکے

سعودی اتحاد کا حوثی میزائل اور ڈرون حملے ناکام بنانے کا دعویٰ

سعودی عرب کے زیر قیادت اتحاد نے ہفتے کی صبح کہا کہ اس نے حوثیوں کی جانب سے مملکت کی طرف داغے گئے دو بیلسٹک میزائل اور دو ڈرونز روک لیے۔ سعودی اتحاد نے حوثی میزائل روکے ایسے وقت میں جب خطے میں سکیورٹی اور بحری راستوں سے متعلق خدشات برقرار ہیں۔

اتحاد کے مطابق دونوں بیلسٹک میزائل جنوب مغربی سعودی عرب کے شہر خمیس مشیط کی طرف بڑھ رہے تھے۔ اس نے بتایا کہ دونوں ڈرونز سعودی دارالحکومت ریاض کی سمت جا رہے تھے، تاہم میزائلوں اور ڈرونز کو روکنے کے حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی گئیں۔

سعودی شہری دفاع نے رات کے دوران خمیس مشیط اور ابہا کے لیے الرٹس جاری کیے تھے۔ تاہم ریاض کے لیے ایسا کوئی الرٹ جاری نہیں کیا گیا، حالانکہ اتحاد کے مطابق ڈرونز سعودی دارالحکومت کی طرف بڑھ رہے تھے۔

حوثی گروپ یمن کے سب سے زیادہ آبادی والے علاقوں اور ملک کے شمالی حصے کے بڑے علاقے پر کنٹرول رکھتا ہے۔ گروپ نے جولائی میں ریاض کے خلاف بحری ناکہ بندی کا اعلان کرنے کے بعد سعودی عرب کے خلاف حملے جاری رکھے ہیں۔

ان حملوں میں بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہاز بھی نشانہ بنے ہیں۔ سعودی اتحاد نے حوثی میزائل روکے اور ڈرونز کی کارروائی ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے کے اہم بحری راستوں پر سکیورٹی صورتحال مسلسل توجہ کا مرکز ہے۔

حالیہ حملوں میں سعودی شہر، توانائی کا بنیادی ڈھانچہ اور بحری جہاز بھی متاثر ہوئے ہیں۔ ان کارروائیوں نے عالمی تیل کی رسد پر مزید دباؤ بڑھایا ہے، جو ایران کے خلاف امریکی اور اسرائیلی جنگ کے باعث پہلے ہی متاثر ہو رہی ہے۔

حملوں سے بحیرہ احمر کا راستہ بھی خطرے میں ہے، جو خلیجی ممالک سے تیل کی برآمدات کے لیے ایک اہم متبادل راستہ سمجھا جاتا ہے۔ آبنائے ہرمز سے گزرنے والی بحری ٹریفک بڑی حد تک بند ہونے کے باعث علاقائی توانائی اور تجارت کے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔

سعودی اتحاد نے حوثی میزائل روکے، حوثی میزائل، حوثی ڈرونز، سعودی عرب پر حملہ، خمیس مشیط میزائل، ریاض ڈرون حملہ، بحیرہ احمر شپنگ

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین