شہباز لکسن مشرق وسطیٰ امن بات چیت

شہباز شریف اور لکسن کی اہم گفتگو: مشرق وسطیٰ میں امن کی نئی امید

وزیراعظم شہباز شریف اور نیوزی لینڈ کے وزیراعظم کرسٹوفر لکسن کے درمیان منگل کو شہباز لکسن مشرق وسطیٰ امن بات چیت ہوئی، جس میں خطے کی موجودہ صورتحال اور امن کے لیے جاری سفارتی کوششوں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ یہ گفتگو عالمی سطح پر بڑھتی ہوئی تشویش کے تناظر میں اہم قرار دی جا رہی ہے۔

گفتگو کے دوران شہباز شریف نے پاکستان کی جانب سے کشیدگی کم کرنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے کیے گئے سفارتی اقدامات سے آگاہ کیا۔ انہوں نے بتایا کہ پاکستان مختلف عالمی طاقتوں کے ساتھ رابطے میں ہے تاکہ تنازع کو پرامن طریقے سے حل کیا جا سکے۔

شہباز لکسن مشرق وسطیٰ امن بات چیت میں پاکستان کے مثبت کردار کو سراہا گیا۔ لکسن نے خاص طور پر امریکہ اور ایران کے ساتھ پاکستان کی سفارتی کوششوں کو قابل قدر قرار دیا اور امن کے لیے ان اقدامات کی حمایت کی۔

وزیراعظم شہباز شریف نے ایک بار پھر اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان خطے اور دنیا میں امن، استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے اپنا کردار ادا کرتا رہے گا۔ انہوں نے کہا کہ مسائل کا حل صرف سفارتکاری کے ذریعے ہی ممکن ہے۔

لکسن نے مشرق وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال کے عالمی معیشت پر اثرات پر بھی تشویش ظاہر کی۔ انہوں نے کہا کہ خلیجی خطے میں استحکام اور آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی عالمی تجارت کے لیے نہایت ضروری ہے۔

دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور نیوزی لینڈ کے درمیان دوطرفہ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے پر بھی اتفاق کیا۔ انہوں نے نیوزی لینڈ میں مقیم پاکستانی کمیونٹی کے مثبت کردار کو سراہا۔

شہباز لکسن مشرق وسطیٰ امن بات چیت کے اختتام پر دونوں رہنماؤں نے قریبی رابطہ برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔ شہباز شریف نے لکسن کو پاکستان کے دورے کی دعوت دی جبکہ لکسن نے کہا کہ پائیدار امن کے لیے سفارتکاری ہی واحد راستہ ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے