سندھ حکومت نے عدالتی کمیشن کی رپورٹ سامنے آنے کے بعد میر رضا علی قتل کیس کی دوبارہ تحقیقات کا حکم دے دیا ہے۔ حکومت نے مقدمے کی ازسرنو تفتیش کے لیے نئی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم (جے آئی ٹی) تشکیل دی ہے۔ اس کے علاوہ پولیس کی مبینہ غفلت اور کیس کو دبانے کی ممکنہ کوششوں کی تحقیقات کے لیے الگ کمیٹی بھی قائم کی جائے گی۔ یہ پیش رفت ہفتے کو آج نیوز کی رپورٹ میں سامنے آئی۔
صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار کے مطابق، ڈپٹی انسپکٹر جنرل پولیس عرفان بلوچ نئی جے آئی ٹی کی سربراہی کریں گے۔ ٹیم میں رینجرز، وفاقی انٹیلی جنس اداروں اور نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے نمائندے شامل ہوں گے۔ محکمہ داخلہ سندھ نے رینجرز سے گریڈ 18 کے افسر کو ٹیم کے لیے نامزد کرنے کی درخواست کی ہے۔
حکومت ابتدائی دس دنوں کے دوران پولیس کے کردار اور مبینہ کوتاہیوں کا جائزہ لینے کے لیے الگ کمیٹی بھی بنائے گی۔ اس کمیٹی میں وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کا گریڈ 20 کا افسر شامل کرنے کی تجویز ہے۔ محکمہ داخلہ نے اس مقصد کے لیے وفاقی وزارت داخلہ سے رابطہ کیا ہے۔ وزیر داخلہ نے بتایا کہ قانونی تقاضے مکمل ہونے کے بعد جے آئی ٹی عدالت میں مقدمے کا چالان جمع کرانے کی مجاز ہوگی۔
پچیس سالہ کاروباری شخصیت میر رضا علی 28 جولائی 2026 کو کراچی کے علاقے پی ای سی ایچ ایس سے لاپتا ہوئے تھے۔ دو روز بعد ان کی لاش گلستان جوہر سے ملی، جس پر تشدد اور گولیوں کے نشانات موجود تھے۔ پولیس نے ابتدائی طور پر خودکشی کا شبہ ظاہر کیا، تاہم اہل خانہ نے الزام لگایا کہ انہیں اغوا کرکے تشدد کا نشانہ بنایا گیا اور قتل کیا گیا۔ عدالت کے حکم پر 8 اگست کو دوسری پوسٹ مارٹم رپورٹ کے لیے لاش نکالی گئی۔
سندھ ہائی کورٹ کے ذریعے قائم کیے گئے عدالتی کمیشن نے واقعے کی تحقیقات کے بعد اپنی رپورٹ 15 اکتوبر کو صوبائی حکومت کو پیش کی۔ بعد ازاں صوبائی کابینہ نے رپورٹ سرکاری ویب سائٹ پر شائع کردی۔ رپورٹ کے نتائج سامنے آنے کے بعد تحقیقات میں مبینہ کوتاہیوں اور مقدمے کو سنبھالنے کے طریقہ کار پر مختلف افسران کے خلاف کارروائی شروع کی گئی۔
حکومت نے ڈی آئی جی ذوالفقار لاڑک کی سربراہی میں ایک کمیٹی بھی قائم کی ہے، جو پولیس کے تفتیشی نظام، کرائم سین یونٹ اور متعلقہ شعبوں کا جائزہ لے گی۔ آئی جی سندھ جاوید عالم اوڈھو نے کمیشن کی سفارشات پر عمل درآمد کی یقین دہانی کرائی ہے۔ حکام نے ایس ایچ او عدیل افضل کو عہدے سے ہٹانے اور معطل کرنے سمیت متعدد افسران کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ ایس ایچ او کامران قریشی کے خلاف شواہد میں مبینہ ردوبدل کے معاملے پر ایف آئی اے کی انکوائری بھی ہوگی۔
دوسری جانب، محکمہ داخلہ نے پوسٹ مارٹم اور قانونی طبی کارروائیوں میں مبینہ کوتاہیوں پر ڈاکٹر اسامہ شیخ کی فوری معطلی اور دو سال کی مزید تربیت کی درخواست کی ہے۔ حکام نے کارکردگی پر دو اہلکاروں، ذیشان اور کانسٹیبل عارف، کے لیے تعریفی اسناد کی سفارش بھی کی ہے۔ وزیراعلیٰ سندھ نے عدالتی کمیشن کی رپورٹ متاثرہ خاندان کو فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے، جبکہ چار صوبائی وزرا پر مشتمل ذیلی کمیٹی انصاف کی فراہمی کے لیے آئندہ اقدامات کا تعین کرے گی۔