کراچی پولیس نے میر رضا کرپٹو ٹریڈنگ ریکارڈ کے 4 سالہ ریکارڈ حاصل کرلیے ہیں۔ 25 سالہ کاروباری شخصیت میر رضا علی 28 جولائی کو لاپتا ہوئے تھے اور اگلے روز گلستان جوہر میں ان کی لاش ملی تھی۔
پولیس حکام کے مطابق یہ ریکارڈ نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی کے ذریعے حاصل کیے گئے۔ ریکارڈ سے مبینہ طور پر ظاہر ہوتا ہے کہ میر رضا علی گزشتہ 4 سال سے بائنانس پر کرپٹو کرنسی کی فیوچرز ٹریڈنگ کررہے تھے۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب میر رضا علی کی موت کی تحقیقات کیلئے قائم عدالتی کمیشن کیس کی سماعت کررہا ہے۔ میر رضا کے دوست عبدالحسیم نے بھی کمیشن کے سامنے بتایا تھا کہ دونوں کرپٹو ٹریڈنگ کیا کرتے تھے۔
عبدالحسیم کے مطابق انہیں ٹریڈنگ میں نقصان ہوا، جس کے بعد انہوں نے یہ کام چھوڑ دیا تھا۔ تاہم میر رضا علی نے کرپٹو ٹریڈنگ جاری رکھی اور وہ اس میں بہتر کارکردگی دکھا رہے تھے۔ پولیس پہلے ہی این سی سی آئی اے سے ڈیجیٹل ریکارڈ اور واٹس ایپ اکاؤنٹ کی تفصیلات حاصل کرنے میں مدد مانگ چکی تھی۔
میر رضا علی کی موت کا معاملہ ابتدا ہی سے متنازع رہا ہے۔ اہلخانہ نے الزام عائد کیا تھا کہ پولیس نے ابتدائی طور پر واقعے کو خودکشی قرار دینے کی کوشش کی۔ بعد میں پہلے پوسٹ مارٹم کی بعض تفصیلات پر بھی سوالات اٹھائے گئے۔
میر رضا کے والد کی درخواست پر عدالت نے لاش کی دوبارہ تدفین کیلئے قبر کشائی اور دوسرے پوسٹ مارٹم کا حکم دیا۔ سندھ حکومت نے میڈیکل بورڈ تشکیل دیا، تاہم بورڈ کی تشکیل میں تبدیلی پر اہلخانہ نے اعتراض کیا۔ بعد میں اصل میڈیکل بورڈ بحال کیا گیا اور 8 اگست کو قبر کشائی کی گئی۔
دوسرے پوسٹ مارٹم کی حتمی رپورٹ کے مطابق میر رضا علی کی موت کمر سے لگنے والی گولی کے باعث سینے میں ہونے والی مہلک چوٹ سے ہوئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ موت کے شواہد خودکشی سے مطابقت نہیں رکھتے۔ دوسری جانب سندھ ہائیکورٹ کے جسٹس عمر سیال کی سربراہی میں قائم عدالتی کمیشن کیس کی تحقیقات اور تفتیش کے طریقہ کار کا جائزہ لے رہا ہے۔