شی جن پنگ وائٹ ہاؤس دورہ

ٹرمپ کا چین کا دورہ، ایران جنگ اور ہرمز بحران پر عالمی تشویش

امریکی صدر Donald Trump چین کے اہم دورے پر روانہ ہو گئے ہیں جہاں ان کی چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات متوقع ہے۔ یہ دورہ ایسے وقت میں ہو رہا ہے جب ایران کے ساتھ جاری کشیدگی اور آبنائے ہرمز کی صورتحال عالمی سطح پر تشویش کا باعث بنی ہوئی ہے۔ ٹرمپ چین دورہ ایران جنگ عالمی سیاست میں اہم موضوع بن گیا ہے۔

واشنگٹن سے روانگی سے قبل صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایران کے ساتھ جاری جنگ کے خاتمے کے لیے انہیں چین کی مدد کی ضرورت نہیں ہے۔ ان کے مطابق امریکہ اس مسئلے کو خود حل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور کسی بیرونی مدد کی ضرورت نہیں۔

آبنائے ہرمز، جو دنیا کی تیل کی بڑی ترسیل کا اہم راستہ ہے، اس وقت شدید دباؤ کا شکار ہے۔ اس خطے میں کشیدگی کے باعث عالمی توانائی منڈیوں میں عدم استحکام بڑھ رہا ہے اور سپلائی چین متاثر ہو رہی ہے۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا ہے۔ انہوں نے ایران کے مطالبات کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ قومی سلامتی ان کی اولین ترجیح ہے۔

رپورٹس کے مطابق ایران نے خطے میں اپنی گرفت مضبوط کرتے ہوئے آبنائے ہرمز سے متعلق نئے معاہدے کیے ہیں۔ ان پیش رفتوں نے عالمی ماہرین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے کہ خطے میں صورتحال مزید خراب ہو سکتی ہے۔

ٹرمپ چین دورہ ایران جنگ کے دوران توانائی، تجارت اور سفارتی معاملات پر بھی بات چیت کا امکان ہے، تاہم ٹرمپ نے واضح کیا کہ چین کو اس تنازع میں ثالثی کا کردار نہیں دیا جائے گا۔

جنگ کے اثرات عالمی معیشت پر بھی پڑ رہے ہیں، خصوصاً تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ اور مہنگائی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق اگر صورتحال مزید بگڑی تو اس کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین