ٹرمپ نے ایران کا شکریہ ادا کیا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے ایک امریکی شہری کو ملک چھوڑنے کی اجازت دے کر خیرسگالی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ان کے مطابق خاتون دسمبر 2024 سے غلط طور پر روکی گئی تھیں اور اب محفوظ مقام پر پہنچ چکی ہیں۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں کہا کہ امریکہ ایران کے اس اقدام کو سراہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ رہائی پانے والی امریکی شہری اچھی صحت میں ہیں، تاہم مزید تفصیلات فراہم نہیں کیں۔
انسانی حقوق کے وکیل جیرڈ جینسر نے رہائی پانے والی خاتون کی شناخت ڈینا کراری کے نام سے کی۔ ان کے مطابق وہ اپنے اہل خانہ سے ملاقات کے لیے ایران گئی تھیں لیکن واپسی کے وقت ہوائی اڈے پر ان کے امریکی اور ایرانی پاسپورٹ ضبط کر لیے گئے تھے۔
وکیل کے مطابق ڈینا کراری سے متعدد بار پوچھ گچھ کی گئی اور کئی ماہ تک ان پر بیرون ملک جانے کی پابندی برقرار رہی۔ بعد ازاں رواں سال اپریل میں یہ پابندی ختم ہوئی اور انہیں اپنے سفری دستاویزات واپس مل گئے۔
جیرڈ جینسر نے بتایا کہ ڈینا کراری "چلڈرن آف مہر فاؤنڈیشن” نامی فلاحی ادارہ چلاتی تھیں، جو ایران میں مستحق بچوں کی مدد کرتا ہے۔ انہوں نے ٹرمپ انتظامیہ کی کوششوں کو بھی سراہا جنہوں نے ان کی واپسی کے لیے مختلف سطحوں پر کام کیا۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی برقرار ہے، تاہم دونوں ممالک کے درمیان سفارتی رابطے بھی جاری ہیں۔ ماہرین کے مطابق انسانی بنیادوں پر ہونے والی ایسی پیش رفت مستقبل میں اعتماد سازی میں مددگار ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹرمپ نے ایران کا شکریہ ادا کیا اور اس اقدام کو مثبت اشارہ قرار دیا، جبکہ مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں جاری رہیں تو دونوں ممالک کے تعلقات میں محدود بہتری کی گنجائش پیدا ہو سکتی ہے۔