امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا آئندہ ٹرمپ کا دورہ چین عالمی سیاست میں غیر معمولی اہمیت اختیار کر گیا ہے، جہاں تجارتی تعلقات کے ساتھ ساتھ امریکہ اور ایران کے درمیان بڑھتی کشیدگی بھی اہم موضوع ہوگی۔ صدر ٹرمپ 13 مئی کو تین روزہ سرکاری دورے پر چین پہنچیں گے۔
اگرچہ اس دورے کا بنیادی مقصد اقتصادی اور تجارتی تعلقات کو بہتر بنانا بتایا جا رہا ہے، لیکن مشرق وسطیٰ کی صورتحال دونوں ممالک کے لیے اہم اسٹریٹجک مسئلہ بن چکی ہے۔ ایران اور آبنائے ہرمز سے متعلق کشیدگی نے عالمی تجارت اور توانائی کی فراہمی کو متاثر کیا ہے۔
صدر ٹرمپ اپنے دورے کے دوران چینی صدر شی جن پنگ سے اہم ملاقاتیں کریں گے، جبکہ سرکاری تقریبات اور کاروباری اجلاسوں میں بھی شرکت متوقع ہے۔ امریکی کمپنیوں ٹیسلا، ایپل، بلیک راک، بوئنگ، سٹی گروپ اور کوالکوم کے اعلیٰ حکام بھی اس دورے میں شامل ہوں گے۔
رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کا دورہ چین پہلے مارچ یا اپریل میں ہونا تھا، لیکن مشرق وسطیٰ میں بڑھتی جنگی صورتحال کے باعث اسے مؤخر کر دیا گیا۔ اب واشنگٹن چین سے توقع رکھتا ہے کہ وہ تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کرتے ہوئے خطے میں کشیدگی کم کرنے میں کردار ادا کرے گا۔
دوسری جانب چین نے خود کو ایک ممکنہ ثالث کے طور پر پیش کیا ہے۔ پاکستان کے ساتھ مل کر بیجنگ نے جنگ بندی اور آبنائے ہرمز میں بحری راستے بحال کرنے کی سفارتی کوششوں کی حمایت کی ہے۔ ماہرین کے مطابق چین کی دلچسپی اس کی توانائی ضروریات اور معاشی مفادات سے جڑی ہوئی ہے۔
مشرق وسطیٰ کی کشیدگی نے چین کی معیشت پر بھی دباؤ بڑھایا ہے، خاص طور پر ان صنعتوں پر جو تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر انحصار کرتی ہیں۔ اگرچہ چین نے قابلِ تجدید توانائی اور الیکٹرک گاڑیوں میں سرمایہ کاری بڑھائی ہے، لیکن خطے کا عدم استحکام اب بھی ایک بڑا خطرہ سمجھا جا رہا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ٹرمپ کا دورہ چین سفارتی لحاظ سے اہم مگر پیچیدہ ثابت ہو سکتا ہے۔ امریکہ چین سے ایران کے معاملے پر تعاون چاہتا ہے، جبکہ اندرونِ ملک اس پالیسی پر تنقید بھی ہو رہی ہے۔ اس کے باوجود دونوں عالمی طاقتیں تعلقات کو مزید خراب ہونے سے بچانے کے لیے اعلیٰ سطحی رابطے جاری رکھنا چاہتی ہیں۔