ایرانی نیوکلیئر پروگرام تشویش

ایرانی نیوکلیئر پروگرام اب پہلی بڑی تشویش ہے: انور قرقاش

متحدہ عرب امارات کے صدارتی مشیر Anwar Gargash نے کہا ہے کہ ایرانی نیوکلیئر پروگرام تشویش اب خطے کی سب سے بڑی سکیورٹی ترجیح بن چکی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے یہ معاملہ ثانوی اہمیت رکھتا تھا لیکن اب صورتحال تبدیل ہو چکی ہے اور ایران کی عسکری صلاحیتیں خطے میں خطرات کو بڑھا رہی ہیں۔

انور قرقاش کے مطابق امریکا اور ایران کے درمیان کسی بھی نئے جنگی مرحلے سے مشرق وسطیٰ مزید غیر مستحکم ہو سکتا ہے اور اس کے اثرات یورپ اور عالمی توانائی منڈی تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا کشیدگی عالمی تجارت اور توانائی کی سپلائی پر سنگین اثر ڈال سکتی ہے۔

ایرانی نیوکلیئر پروگرام تشویش کے حوالے سے انہوں نے یورپی ممالک پر زور دیا کہ وہ آبنائے ہرمز کو صرف علاقائی نہیں بلکہ عالمی معاشی مسئلہ سمجھیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ سفارتی حل ضروری ہے، لیکن ایسا حل جو مستقبل میں مزید پیچیدگیوں کا باعث بنے قابل قبول نہیں ہو سکتا۔

انور قرقاش نے یہ بھی کہا کہ امریکا خلیجی ممالک کے دفاعی نظام میں مرکزی حیثیت رکھتا ہے اور خطے کی سکیورٹی پالیسیوں میں اس کا کردار بنیادی ہے۔

ماہرین کے مطابق یہ بیان خلیجی ممالک کی بڑھتی ہوئی تشویش کی عکاسی کرتا ہے، خاص طور پر ایران کے نیوکلیئر اور علاقائی تنازعات کے تناظر میں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین