برطانیہ اور جاپان کے درمیان ایک بڑے برطانیہ جاپان سرمایہ کاری معاہدہ پر اتفاق متوقع ہے جس کی مالیت 18 ارب پاؤنڈ (تقریباً 24 ارب ڈالر) سے زائد بتائی جا رہی ہے۔ یہ معاہدہ بنیادی ڈھانچے، صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی کے شعبوں میں تعاون کو فروغ دے گا۔
یہ معاہدہ برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر اور جاپانی وزیراعظم ساناے تاکائیچی کی ملاقات کے دوران سامنے آنے کی توقع ہے۔ اس منصوبے میں جاپان کی جانب سے پانچ سالہ سرمایہ کاری پروگرام شامل ہے جو 9 ارب پاؤنڈ سے زیادہ ہوگا۔
اس برطانیہ جاپان سرمایہ کاری معاہدہ کا ایک اہم حصہ آف شور ونڈ انرجی ہے، جس کے تحت 5.9 گیگا واٹ توانائی پیدا کرنے کی صلاحیت حاصل ہوگی۔ یہ منصوبے اسکاٹ لینڈ اور سیلٹک سی میں مکمل کیے جائیں گے۔
توانائی کے ساتھ ساتھ دونوں ممالک مصنوعی ذہانت، سیمی کنڈکٹرز اور کوانٹم کمپیوٹنگ جیسے شعبوں میں نئی ٹیکنالوجی شراکت داری بھی شروع کریں گے۔ اس کا مقصد مستقبل کی ٹیکنالوجی میں مشترکہ ترقی اور سپلائی چین کو مضبوط بنانا ہے۔
ہٹاچی انرجی، رولز رائس اور ایزائی جیسی بڑی کمپنیاں بھی نئی سرمایہ کاری اور مشترکہ منصوبوں کا اعلان کریں گی، جو توانائی، نیوکلیئر ٹیکنالوجی اور صحت کے شعبوں سے متعلق ہوں گے۔
یہ معاہدے جاپانی وزیراعظم کے دورہ برطانیہ کے دوران طے پائیں گے جو G7 اجلاس سے قبل ہو رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ پیش رفت دونوں ممالک کے درمیان اقتصادی اور اسٹریٹجک تعلقات کو مزید مضبوط کرے گی۔
مجموعی طور پر یہ برطانیہ جاپان سرمایہ کاری معاہدہ اقتصادی ترقی، صاف توانائی اور جدید ٹیکنالوجی میں تعاون کو ایک نئے دور میں داخل کرے گا۔