زیلنسکی کی وزیر دفاع کی برطرفی کے خلاف جمعرات کو یوکرین کے مختلف شہروں میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے۔ صدر وولودیمیر زیلنسکی کی جانب سے وزیر دفاع میخائیلو فیڈوروف کو اچانک عہدے سے ہٹانے کے فیصلے پر عوام، فوجی حلقوں اور تجزیہ کاروں نے شدید ردعمل کا اظہار کیا۔
دارالحکومت کیف میں مظاہرین نے "فیڈوروف کو مت ہٹاؤ” اور "فتح کے راستے میں رکاوٹ نہ بنو” جیسے نعرے درج پلے کارڈ اٹھائے۔ مظاہروں میں بڑی تعداد نوجوانوں کی تھی، جنہوں نے حکومت سے فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کیا۔
صدر زیلنسکی نے ابھی تک برطرفی کی باضابطہ وجہ بیان نہیں کی۔ پارلیمنٹ میں وزیر داخلہ ایگور کلیمینکو کو نئے وزیر دفاع کے طور پر نامزد کیے جانے پر ووٹنگ متوقع تھی، جبکہ حکومتی ردوبدل کے تحت دیگر اہم عہدوں پر بھی تبدیلیاں کی جا رہی ہیں۔
پریس کانفرنس کے دوران میخائیلو فیڈوروف نے اشارہ دیا کہ ان کے اور مسلح افواج کے سربراہ اولیکساندر سیرسکی کے درمیان اختلافات اس فیصلے کا سبب بن سکتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فوجی قیادت میں تبدیلی کی تجویز دی تھی، تاہم صدر نے اسے قبول نہیں کیا۔
زیلنسکی کی وزیر دفاع کی برطرفی پر متعدد فوجیوں، دفاعی ماہرین اور سول سوسائٹی کے نمائندوں نے بھی تنقید کی۔ ان کا کہنا ہے کہ فیڈوروف نے دفاعی شعبے میں جدید اصلاحات، ڈرون ٹیکنالوجی، شفافیت اور انتظامی بہتری کے لیے اہم کردار ادا کیا۔
فیڈوروف اس سے قبل وزیر برائے ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن بھی رہ چکے ہیں، جہاں انہوں نے آئی ٹی آرمی، ڈرون پروگرامز اور جدید دفاعی ٹیکنالوجی کے منصوبوں کی قیادت کی۔ ان کے حامیوں کا کہنا ہے کہ انہوں نے جنگی حکمت عملی میں جدید ٹیکنالوجی کو مؤثر انداز میں استعمال کیا۔
مظاہروں نے یوکرین میں جنگ کے دوران حکومتی فیصلوں پر عوامی بحث کو مزید تیز کر دیا ہے۔ مبصرین کے مطابق صدر زیلنسکی کی جانب سے اس فیصلے کی وضاحت اور آئندہ حکمت عملی پر پوری دنیا کی نظریں مرکوز رہیں گی۔