اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت

اقوام متحدہ کا مصنوعی ذہانت کے عالمی ضوابط پر زور، گوتریس کی اہم وارننگ

اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے محفوظ استعمال کے لیے عالمی سطح پر مربوط قوانین بنانے کی ضرورت پر زور دے رہی ہے۔ اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے جنیوا میں منعقدہ پہلے گلوبل ڈائیلاگ آن اے آئی گورننس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ مصنوعی ذہانت انتہائی تیزی سے ترقی کر رہی ہے، اس لیے اس کی رہنمائی واضح اصولوں، انسانی نگرانی اور عالمی تعاون کے تحت ہونی چاہیے۔

گوتریس نے کہا کہ مصنوعی ذہانت اب صرف ایک معاون ٹیکنالوجی نہیں رہی بلکہ کئی معاملات میں خودکار فیصلے کرنے، کوڈ لکھنے اور آن لائن سرگرمیاں انجام دینے کی صلاحیت حاصل کر رہی ہے۔ ان کے مطابق اگر اس ترقی کو مناسب ضابطوں کے بغیر جاری رکھا گیا تو یہ معاشروں، اداروں اور عوامی اعتماد کے لیے نئے چیلنجز پیدا کر سکتی ہے۔

انہوں نے "وائب کوڈنگ” کے بڑھتے ہوئے رجحان کا بھی ذکر کیا، جس میں صارفین خود کوڈ لکھنے کے بجائے مصنوعی ذہانت کو ہدایات دیتے ہیں۔ گوتریس نے کہا کہ اگرچہ یہ طریقہ کئی کام آسان بنا سکتا ہے، لیکن انسانیت کا مستقبل یا سچائی مصنوعی ذہانت کے حوالے نہیں کی جا سکتی۔

اقوام متحدہ کے سربراہ نے خبردار کیا کہ مصنوعی ذہانت کی طاقت چند بڑی کمپنیوں اور محدود ممالک تک مرکوز ہوتی جا رہی ہے، جبکہ ترقی پذیر ممالک مستقبل کے اہم فیصلوں میں مناسب کردار ادا نہیں کر پا رہے۔ انہوں نے زور دیا کہ عالمی سطح پر مساوی رسائی اور شراکت داری کو یقینی بنایا جائے۔

انہوں نے بچوں کے تحفظ کو بھی ترجیح قرار دیتے ہوئے "اے آئی چائلڈ سیفٹی پلیج” کی تجویز پیش کی۔ ان کے مطابق ایسی ہر مصنوعی ذہانت جو بچوں کے لیے دستیاب ہو، اس کی حفاظت ثابت کی جائے، بچوں کے استحصال کی روک تھام کو یقینی بنایا جائے اور ضرورت پڑنے پر حقیقی انسانی مدد فراہم کی جائے۔

گوتریس نے ترقی پذیر ممالک کی معاونت کے لیے عالمی اے آئی فنڈ کے قیام کی تجویز بھی دی تاکہ انہیں ڈیجیٹل مہارت، ڈیٹا اور کمپیوٹنگ وسائل تک بہتر رسائی حاصل ہو سکے۔ انہوں نے ٹیکنالوجی کمپنیوں پر زور دیا کہ وہ ڈیٹا سینٹرز کو 2030 تک قابل تجدید توانائی پر منتقل کریں تاکہ مصنوعی ذہانت کے ماحولیاتی اثرات کم کیے جا سکیں۔

اقوام متحدہ مصنوعی ذہانت کے عسکری استعمال پر بھی شدید تشویش کا اظہار کر رہی ہے۔ گوتریس نے مکمل خودکار مہلک ہتھیاروں کو "قاتل روبوٹس” قرار دیتے ہوئے مطالبہ کیا کہ ایسے ہتھیاروں پر بین الاقوامی قانون کے ذریعے پابندی عائد کی جائے تاکہ انسانوں کے جان لیوا فیصلے ہمیشہ انسانی نگرانی میں رہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین