امریکا ایران معاہدہ

سفارت کاری ناکام ہوئی تو ایران پر دوبارہ حملے کر سکتے ہیں، ہیگستھ

امریکا ایران معاہدہ سے متعلق غیر یقینی صورتحال برقرار ہے کیونکہ امریکی وزیر دفاع پیٹ ہیگستھ نے کہا ہے کہ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو امریکا ایران کے خلاف دوبارہ فوجی کارروائی کرنے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔ یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب واشنگٹن اور تہران کے درمیان مذاکرات جاری ہیں۔

سنگاپور میں خطاب کرتے ہوئے ہیگستھ نے کہا کہ امریکا ضرورت پڑنے پر کارروائی دوبارہ شروع کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ ایک مضبوط معاہدے کے خواہاں ہیں تاکہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا ایران معاہدہ سفارت کاری کے ذریعے حاصل کرنا ترجیح ہے۔

رپورٹس کے مطابق صدر ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس میں اپنے مشیروں کے ساتھ اہم مشاورت کی، تاہم کسی حتمی فیصلے کا اعلان نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب ایرانی حکام نے بھی کہا کہ ابھی تک کسی حتمی معاہدے پر اتفاق نہیں ہوا، جس سے مذاکرات کے مستقبل پر سوالات برقرار ہیں۔

امریکا ایران معاہدہ صرف دونوں ممالک کے تعلقات ہی نہیں بلکہ پورے مشرق وسطیٰ کی صورتحال پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کامیاب معاہدہ خطے میں کشیدگی کم کر سکتا ہے جبکہ ناکامی مزید تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔

ہیگستھ نے اس تاثر کو بھی مسترد کیا کہ ایران سے متعلق معاملات امریکا کی ایشیا بحرالکاہل پالیسی کو متاثر کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ واشنگٹن ایک وقت میں متعدد سیکیورٹی چیلنجز سے نمٹنے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اپنے اتحادیوں کے ساتھ وابستگی برقرار رکھے گا۔

شنگری لا ڈائیلاگ کے دوران امریکی وزیر دفاع نے ایشیائی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ دفاعی اخراجات میں اضافہ کریں۔ ان کے مطابق چین کی بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں کے تناظر میں خطے میں توازن اور استحکام برقرار رکھنے کے لیے مشترکہ کوششیں ضروری ہیں۔

امریکا ایران معاہدہ کے حوالے سے آئندہ چند روز انتہائی اہم تصور کیے جا رہے ہیں۔ عالمی برادری کی نظریں واشنگٹن اور تہران پر مرکوز ہیں کیونکہ آنے والے فیصلے خطے کی سلامتی اور بین الاقوامی سیاست پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین