حماس کے ایک سینئر عہدیدار نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کے فوجی سربراہ عزالدین الحداد اسرائیلی فضائی حملے میں ہلاک ہوگئے ہیں۔ اس خبر کے بعد غزہ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوگئی ہے جبکہ جنگ بندی مذاکرات پہلے ہی تعطل کا شکار ہیں۔ “حماس کے فوجی سربراہ کی ہلاکت” کی خبر سامنے آتے ہی عالمی توجہ ایک بار پھر غزہ کی جانب مبذول ہوگئی۔
اسرائیلی وزیر اعظم Benjamin Netanyahu نے کہا کہ اسرائیلی فوج نے حالیہ کارروائی میں الحداد کو نشانہ بنایا تھا۔ اسرائیلی وزیر دفاع Israel Katz نے بھی اس آپریشن کی تصدیق کی، تاہم ان کی ہلاکت کی باضابطہ تصدیق نہیں کی گئی۔ غزہ شہر کے عینی شاہدین کے مطابق مختلف مساجد میں الحداد کی شہادت کے اعلانات کیے گئے۔
حماس ذرائع کے مطابق عزالدین الحداد نے 2025 میں محمد سنوار کی ہلاکت کے بعد غزہ میں فوجی قیادت سنبھالی تھی۔ اسرائیل نے ان پر 7 اکتوبر 2023 کے حملوں کی منصوبہ بندی کا الزام عائد کیا تھا، جن کے بعد غزہ جنگ شروع ہوئی۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ وہ اسرائیلی شہریوں اور فوجیوں پر حملوں میں اہم کردار رکھتے تھے۔
اگر حماس باضابطہ طور پر الحداد کی موت کی تصدیق کرتی ہے تو وہ جنگ بندی معاہدے کے بعد ہلاک ہونے والے سب سے بڑے حماس رہنما ہوں گے۔ “حماس کے فوجی سربراہ کی ہلاکت” کی اطلاعات نے خطے میں سیاسی اور سیکیورٹی صورتحال کو مزید غیر یقینی بنا دیا ہے۔
غزہ کے طبی حکام کے مطابق اسرائیلی فضائی حملوں میں کم از کم سات افراد ہلاک ہوئے جن میں تین خواتین اور ایک بچہ شامل ہیں۔ حملوں میں ایک رہائشی عمارت اور ایک گاڑی کو نشانہ بنایا گیا جبکہ 50 سے زائد افراد زخمی ہوئے۔ ابھی تک یہ واضح نہیں ہوسکا کہ الحداد انہی حملوں میں مارے گئے یا نہیں۔
دوسری جانب امریکہ، اسرائیل اور حماس کے درمیان بالواسطہ مذاکرات تاحال کسی نتیجے تک نہیں پہنچ سکے۔ امریکی صدر Donald Trump غزہ کے لیے جنگ کے بعد کا منصوبہ پیش کرچکے ہیں، جس کا مقصد دو سال سے جاری تنازع ختم کرنا ہے۔ تاہم اہم سیاسی اور سیکیورٹی معاملات پر اختلافات برقرار ہیں۔
حالیہ ہفتوں میں اسرائیل نے غزہ میں اپنی فوجی کارروائیاں مزید تیز کردی ہیں۔ اسرائیلی فوج کا دعویٰ ہے کہ حماس کے جنگجو دوبارہ منظم ہورہے ہیں، جبکہ غزہ میں انسانی بحران شدت اختیار کرتا جارہا ہے۔ ماہرین کے مطابق الحداد کی ممکنہ ہلاکت جنگ بندی مذاکرات پر مزید منفی اثر ڈال سکتی ہے۔