ٹرمپ درآمدی ٹیرف ایک بار پھر عالمی تجارت کا اہم موضوع بن گئے ہیں، کیونکہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ رواں ہفتے درجنوں ممالک پر نئے درآمدی محصولات عائد کرنے کی تیاری کر رہی ہے۔ یہ اقدام عارضی عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہونے سے پہلے سامنے آیا ہے۔
برطانوی اخبار کی رپورٹ کے مطابق جمعہ کو عارضی 10 فیصد عالمی ٹیرف کی مدت ختم ہو رہی ہے۔ اس کے بعد نئی درآمدی ڈیوٹیاں نافذ کی جا سکتی ہیں، تاہم ابتدائی مرحلے میں بیشتر ممالک پر 10 فیصد ٹیرف برقرار رہنے کا امکان ہے۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ زیادہ شرح کے ٹرمپ درآمدی ٹیرف نافذ کرنے کے لیے نئی قانونی بنیاد بھی تیار کر رہی ہے۔ اس مقصد کے لیے امریکی تجارتی قوانین کے تحت مختلف قانونی آپشنز پر غور کیا جا رہا ہے۔
حال ہی میں امریکی حکومت نے کینیڈا سے درآمد ہونے والی گاڑیوں اور دیگر اشیا پر 50 فیصد ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا، جو آئندہ ماہ سے نافذ العمل ہوگا۔
یہ پیش رفت امریکی سپریم کورٹ کے 20 فروری 2026 کے فیصلے کے بعد سامنے آئی، جس میں صدر ٹرمپ کے مستقل ٹیرف پروگرام کو غیر آئینی قرار دیتے ہوئے انٹرنیشنل ایمرجنسی اکنامک پاورز ایکٹ (IEEPA) کے تحت عائد کیے گئے ٹیرف ختم کر دیے گئے تھے۔
عدالت نے قرار دیا تھا کہ کانگریس نے صدر کو اس قانون کے تحت درآمدی ڈیوٹیاں نافذ کرنے کا اختیار نہیں دیا۔ اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے سیکشن 122 کے تحت عارضی 15 فیصد عالمی ٹیرف نافذ کیا تھا۔
سیکشن 122 کے تحت درآمدی ٹیرف صرف 150 دن کے لیے نافذ کیے جا سکتے ہیں، جس کی مدت 24 جولائی 2026 کو ختم ہو رہی ہے۔ اسی لیے انتظامیہ مستقبل کے ٹرمپ درآمدی ٹیرف کے لیے نئی قانونی حکمت عملی تیار کر رہی ہے۔