کواڈ اجلاس

کواڈ اجلاس میں انڈو پیسیفک رابطوں پر زور

نئی دہلی میں ہونے والے حالیہ کواڈ اجلاس میں انڈو پیسیفک خطے میں رابطوں، سپلائی چین اور بحری سلامتی کے مسائل پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ آسٹریلیا، بھارت، جاپان اور امریکہ کے وزرائے خارجہ نے بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے تناظر میں باہمی تعاون کو مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔

بھارتی وزیر خارجہ S. Jaishankar نے کہا کہ کواڈ ممالک کو “رابطوں میں رکاوٹوں” اور وسائل کے محدود مراکز جیسے مسائل کا حل تلاش کرنا ہوگا۔ انہوں نے مضبوط انفراسٹرکچر اور سپلائی چین کے تحفظ کو خطے کی اقتصادی استحکام کے لیے ضروری قرار دیا۔

اس کواڈ اجلاس میں آسٹریلیا کی Penny Wong، جاپان کے Toshimitsu Motegi اور امریکی وزیر خارجہ Marco Rubio نے بھی شرکت کی۔ رہنماؤں نے اس اتحاد کو صرف مذاکراتی فورم کے بجائے عملی اقدامات کرنے والا پلیٹ فارم بنانے پر زور دیا۔

اجلاس میں آبنائے ہرمز کی صورتحال بھی اہم موضوع رہی۔ ایران سے متعلق کشیدگی نے عالمی توانائی منڈیوں کو متاثر کیا ہے اور تیل کی سپلائی کے حوالے سے خدشات میں اضافہ ہوا ہے۔ کواڈ ممالک اس اہم بحری راستے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہیں۔

امریکہ نے “آزاد اور کھلے انڈو پیسیفک” کے تصور کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔ واشنگٹن نے بحری سلامتی، اہم معدنیات اور علاقائی استحکام کے شعبوں میں تعاون بڑھانے کی حمایت کی۔ جاپان خاص طور پر اہم معدنیات کی متبادل سپلائی تلاش کرنے میں دلچسپی رکھتا ہے۔

مشرقی اور جنوبی بحیرہ چین میں چین کی بڑھتی ہوئی فوجی سرگرمیاں بھی کواڈ اجلاس میں زیر بحث آئیں۔ بیجنگ اس اتحاد کو اپنے خلاف حکمت عملی قرار دیتا ہے، تاہم کواڈ ممالک کا کہنا ہے کہ ان کا مقصد خطے میں استحکام، سلامتی اور اقتصادی تعاون کو فروغ دینا ہے۔

ماہرین کے مطابق کواڈ اتحاد کی مستقبل کی اہمیت کا انحصار اعلیٰ سطحی قیادت کے رابطوں پر ہوگا۔ اطلاعات ہیں کہ رواں سال چاروں ممالک کے سربراہان کا ایک اہم اجلاس بھی متوقع ہے، جس سے علاقائی تعاون اور سلامتی کے اقدامات مزید مضبوط ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین