ایران کے سپریم لیڈر

ایران کے سپریم لیڈر کا امریکی اڈوں پر انتباہ

ایران کے سپریم لیڈرمجتبیٰ خامنہ ای نے منگل کو خبردار کیا کہ مشرق وسطیٰ کے ممالک اب “امریکی فوجی اڈوں کے لیے ڈھال” کا کردار ادا نہیں کریں گے۔ ان کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔

موجتبیٰ خامنہ ای نے یہ بات اپنے حج پیغام میں کہی، جو ایرانی میڈیا اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جاری کیا گیا۔ ان کے بیان سے چند گھنٹے قبل ایران میں امریکی حملوں کی اطلاعات بھی سامنے آئی تھیں، جبکہ دونوں ممالک کے درمیان جنگ بندی برقرار رکھنے کے لیے بالواسطہ مذاکرات جاری ہیں۔

اپنے پیغام میں ایران کے سپریم لیڈر نے کہا کہ امریکہ خطے میں اپنی سابقہ طاقت اور اثر و رسوخ کھو رہا ہے۔ ان کے مطابق خطے کے ممالک اب امریکی فوجی موجودگی اور اڈوں کے لیے محفوظ پناہ گاہیں فراہم نہیں کریں گے اور مستقبل میں ایک نیا علاقائی نظام تشکیل پائے گا۔

ایرانی رہنما نے “محورِ مزاحمت” کا بھی ذکر کیا، جس سے مراد ایران کے حمایت یافتہ علاقائی گروہ ہیں۔ ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق انہوں نے اس اتحاد کو ایران، لبنان، عراق، یمن، افغانستان اور پاکستان تک پھیلا ہوا ایک مشترکہ مزاحمتی نیٹ ورک قرار دیا۔

انہوں نے اسرائیل پر بھی سخت تنقید کرتے ہوئے اسے غیر مستحکم ریاست قرار دیا۔ ایرانی میڈیا کے مطابق خامنہ ای نے ایران کی مسلح افواج اور اتحادی گروہوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے امریکہ اور اسرائیل کے خلاف اہم کامیابیاں حاصل کیں۔

امریکہ اور ایران کے درمیان حالیہ کشیدگی اس وقت بڑھی جب رواں سال امریکی اور اسرائیلی حملے ایران میں کیے گئے۔ بعد ازاں ایران نے خلیجی ممالک میں امریکی مفادات کو نشانہ بنایا اور آبنائے ہرمز میں نقل و حرکت محدود کر دی، جو عالمی تیل اور گیس کی ترسیل کے لیے اہم راستہ سمجھا جاتا ہے۔

اگرچہ اپریل میں پاکستان کی ثالثی میں جنگ بندی طے پا گئی تھی، لیکن ایران اور امریکہ کے درمیان مذاکرات اب بھی جاری ہیں۔ ان مذاکرات میں پابندیوں میں نرمی، بحری سلامتی اور جوہری معاملات جیسے اہم نکات زیر بحث ہیں، جبکہ خطے میں سفارتی صورتحال بدستور نازک سمجھی جا رہی ہے۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین