ایران کی اسلامی انقلابی گارڈ کور (IRGC) نے منگل کو دعویٰ کیا کہ اس نے ایک امریکی MQ-9 ریپر ڈرون کو خلیجی علاقے میں ایرانی فضائی حدود کی مبینہ خلاف ورزی پر مار گرایا۔ یہ دعویٰ ایسے وقت سامنے آیا ہے جب ایران اور امریکہ کے درمیان کشیدگی بدستور برقرار ہے۔
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق IRGC نے ایرانی حدود کے قریب مشتبہ اور “دشمن” طیاروں کی موجودگی کا پتہ چلانے کے بعد کارروائی کی۔ حکام کا کہنا تھا کہ امریکی MQ-9 ریپر ڈرون نے ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی کی جس کے بعد اسے نشانہ بنایا گیا۔
IRGC نے مزید دعویٰ کیا کہ ایرانی فورسز نے امریکی RQ-4 جاسوس ڈرون اور ایک F-35 لڑاکا طیارے پر بھی فائرنگ کی۔ تاہم ایرانی حکام نے ان کارروائیوں کے نتائج یا ممکنہ نقصان کے بارے میں کوئی تفصیلات جاری نہیں کیں۔
ایرانی فوجی حکام نے خبردار کیا کہ امریکہ کی جانب سے جنگ بندی کی کسی بھی خلاف ورزی کا جواب دینے کا ایران کو مکمل حق حاصل ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ایران اپنی سلامتی کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کرے گا۔
یہ صورتحال ایسے وقت سامنے آئی جب امریکی فوج نے بھی خطے میں راکٹ لانچنگ مقامات پر حملوں کی تصدیق کی۔ واشنگٹن نے ان حملوں کو دفاعی کارروائی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد امریکی مفادات اور فوجیوں کا تحفظ ہے۔
امریکی MQ-9 ریپر ڈرون امریکی فوج کے جدید ترین بغیر پائلٹ طیاروں میں شمار ہوتا ہے۔ General Atomics کی جانب سے تیار کردہ یہ ڈرون طویل وقت تک فضا میں رہ سکتا ہے اور جدید کیمروں، ریڈارز اور سینسرز کے ذریعے معلومات جمع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق یہ واقعہ مشرق وسطیٰ میں کشیدگی کو مزید بڑھا سکتا ہے، جہاں ایران اور امریکہ کے درمیان جاری سفارتی مذاکرات پہلے ہی نازک مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔ خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں۔