جنوبی کوریا جوہری آبدوز منصوبے کے تحت سیول نے اعلان کیا ہے کہ وہ 2030 کی دہائی کے وسط تک اپنی پہلی جوہری طاقت سے چلنے والی آبدوز تیار کرنے کی کوشش کرے گا۔ اس منصوبے کا مقصد شمالی کوریا کے بڑھتے ہوئے فوجی خطرات کا مقابلہ کرنا ہے۔
منگل کو Ahn Gyu-back نے کہا کہ نئی آبدوزی حکمت عملی شمالی کوریا کی آبدوز سے داغے جانے والے میزائلوں اور جوہری صلاحیتوں کے جواب میں تیار کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق جنوبی کوریا کو جدید دفاعی صلاحیتوں کی فوری ضرورت ہے۔
مجوزہ جنوبی کوریا جوہری آبدوز روایتی ڈیزل آبدوزوں کے مقابلے میں زیادہ دیر تک سمندر میں رہنے اور خفیہ کارروائیاں انجام دینے کی صلاحیت رکھے گی۔ دفاعی ماہرین کے مطابق جوہری آبدوزیں جدید بحری جنگ میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
جزیرہ نما کوریا میں حالیہ برسوں کے دوران کشیدگی مسلسل بڑھتی رہی ہے۔ جنوبی کوریا کی فوج نے منگل کو بتایا کہ شمالی کوریا نے کئی میزائل داغے ہیں، جس کے بعد خطے میں سیکیورٹی خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ جنوبی کوریا کی اس وسیع حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد شمالی کوریا کے خلاف دفاعی طاقت کو مضبوط بنانا ہے۔ سیول پہلے ہی جدید میزائل دفاعی نظام، جنگی طیاروں اور بحری صلاحیتوں میں سرمایہ کاری کر رہا ہے۔
جنوبی کوریا جوہری آبدوز منصوبہ ایشیا پیسیفک خطے میں بھی اہم اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ ماہرین کے مطابق خطے کے کئی ممالک اس پیش رفت کو قریب سے دیکھیں گے کیونکہ اس سے بحری توازن اور علاقائی سلامتی متاثر ہو سکتی ہے۔
اگرچہ منصوبہ انتہائی اہم اور پیچیدہ تصور کیا جا رہا ہے، تاہم جنوبی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ جدید ٹیکنالوجی، منصوبہ بندی اور بین الاقوامی تعاون کے ذریعے اسے مکمل کرے گا۔ حکام کے مطابق قومی سلامتی کو مضبوط بنانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔