پاکستان معاشی شرح نمو ہدف 2026-27 کے تحت حکومت نے آئندہ مالی سال کے لیے 4 فیصد اقتصادی ترقی اور 8.2 فیصد افراط زر کا ہدف مقرر کیا ہے۔ سالانہ پلان رابطہ کمیٹی (اے پی سی سی) نے میکرو اکنامک فریم ورک کی منظوری دے دی ہے جسے حتمی منظوری کے لیے قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کے اجلاس میں پیش کیا جائے گا۔
یہ ہدف ایسے وقت میں مقرر کیا گیا ہے جب پاکستان کی معیشت مالی سال 2025-26 میں 3.7 فیصد کی شرح سے ترقی کر سکی، جو مقررہ 4.2 فیصد ہدف سے کم رہی۔ تاہم یہ شرح گزشتہ مالی سال کی 3.2 فیصد ترقی کے مقابلے میں بہتر کارکردگی کی عکاسی کرتی ہے۔
پاکستان معاشی شرح نمو ہدف 2026-27 کے مطابق اشیاء پیدا کرنے والے شعبوں کی مجموعی ترقی 3.9 فیصد رہنے کی توقع ہے۔ زرعی شعبے کی شرح نمو 3.8 فیصد مقرر کی گئی ہے جسے اہم فصلوں، کپاس کی جننگ اور لائیو اسٹاک کی بہتر کارکردگی سے تقویت ملنے کی امید ہے۔
صنعتی شعبے کے لیے 4 فیصد ترقی کا ہدف رکھا گیا ہے۔ بڑی صنعتوں کی پیداوار میں 4.5 فیصد اضافے کی توقع ظاہر کی گئی ہے جبکہ کان کنی، تعمیرات، توانائی اور دیگر متعلقہ شعبے بھی معاشی سرگرمیوں میں اضافہ کریں گے۔
خدمات کے شعبے کی شرح نمو 4.2 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔ تھوک و پرچون تجارت، ٹرانسپورٹ، مواصلات، مالیاتی خدمات اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے اس ترقی میں اہم کردار ادا کریں گے۔
حکومت نے قومی بچت کو مجموعی قومی پیداوار کے 14.3 فیصد تک لے جانے اور سرمایہ کاری کو 15 فیصد تک بڑھانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔ نجی سرمایہ کاری میں اضافے کی توقع ہے جبکہ افراط زر کو 8.2 فیصد تک محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
پاکستان معاشی شرح نمو ہدف 2026-27 کے تحت دو ملین نئی ملازمتیں پیدا کرنے کا منصوبہ بھی شامل ہے۔ حکام کے مطابق زراعت، صنعت اور خدمات کے شعبوں میں روزگار کے مواقع بڑھیں گے، جس سے جامع اور پائیدار معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔