پنجاب قرض 2026 سے متعلق سامنے آنے والی نئی مالیاتی دستاویزات کے مطابق صوبہ پنجاب کے ملکی اور غیر ملکی قرضوں کا مجموعی حجم کم ہو کر 1691 ارب روپے رہ گیا ہے۔ یہ اعداد و شمار صوبے کی مالی صورتحال میں بہتری کی نشاندہی کرتے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق جون 2025 میں پنجاب کے ذمہ مجموعی قرضوں کا حجم 1757 ارب روپے تھا۔ مارچ 2026 تک یہ رقم کم ہو کر 1691 ارب روپے رہ گئی، جس کا مطلب ہے کہ اس عرصے کے دوران تقریباً 66 ارب روپے کی کمی واقع ہوئی۔
اعداد و شمار سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ قرضوں میں کمی کا سلسلہ حالیہ مہینوں میں بھی جاری رہا۔ دسمبر 2025 سے مارچ 2026 کے درمیان صوبے کے قرضوں میں تقریباً 13.2 ارب روپے کی مزید کمی ریکارڈ کی گئی۔
پنجاب قرض 2026 کی تفصیلات کے مطابق صوبے کے مجموعی قرضوں میں سے 42 فیصد بین الاقوامی ترقیاتی اداروں سے حاصل کیا گیا ہے۔ یہ قرضے مختلف ترقیاتی منصوبوں، بنیادی ڈھانچے اور عوامی فلاحی پروگراموں کے لیے استعمال کیے جاتے رہے ہیں۔
دستاویزات کے مطابق پنجاب کے واجب الادا قرضوں میں 20 فیصد حصہ ایشیائی ترقیاتی بینک سے حاصل کردہ قرضوں کا ہے، جبکہ 18 فیصد قرضہ چین سے لیا گیا۔ یہ مالی معاونت مختلف طویل المدتی ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں استعمال ہوئی ہے۔
محکمہ خزانہ پنجاب کے حکام کا کہنا ہے کہ رواں مالی سال کے اختتام تک قرضوں میں مزید کمی کی توقع کی جا رہی ہے۔ ان کے مطابق مالیاتی نظم و ضبط اور بہتر معاشی انتظام کے باعث مثبت نتائج سامنے آ سکتے ہیں۔
پنجاب قرض 2026 کے یہ اعداد و شمار معاشی ماہرین اور پالیسی سازوں کی توجہ کا مرکز بنے ہوئے ہیں۔ اگر قرضوں میں کمی کا یہ رجحان برقرار رہا تو صوبے کی مالی پوزیشن مزید مستحکم ہو سکتی ہے اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے اضافی وسائل دستیاب ہو سکتے ہیں۔