اسرائیل حزب اللہ جنگ بندی

ٹرمپ کا اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق کا دعویٰ

اسرائیل حزب اللہ جنگ بندی کے حوالے سے ایک اہم دعویٰ سامنے آیا ہے، جہاں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ  نے کہا ہے کہ اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے ایک مفاہمت طے پا گئی ہے۔ ان کے مطابق یہ پیش رفت اسرائیلی وزیراعظم  نیتن یاہو سے ٹیلیفونک گفتگو کے بعد سامنے آئی۔

سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں ٹرمپ نے کہا کہ نیتن یاہو کے ساتھ ان کی بات چیت انتہائی مفید رہی، جس میں خطے کی صورتحال اور امن کے امکانات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ انہوں نے یہ بھی دعویٰ کیا کہ بیروت کی جانب بڑھنے والے فوجی دستوں کو واپس بلا لیا گیا ہے۔

ٹرمپ کے مطابق اعلیٰ سطح کے نمائندوں کے ذریعے حزب اللہ کے ساتھ بھی رابطے کیے گئے، جن کے نتیجے میں مبینہ اسرائیل حزب اللہ جنگ بندی پر اتفاق ہوا۔ ان کا کہنا تھا کہ دونوں فریق کشیدگی میں کمی پر آمادہ ہو گئے ہیں۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اس مفاہمت کے تحت اسرائیل حزب اللہ پر حملے نہیں کرے گا جبکہ حزب اللہ بھی اسرائیل کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کرے گی۔ تاہم اس دعوے کی حزب اللہ یا دیگر آزاد ذرائع سے فوری طور پر تصدیق سامنے نہیں آئی۔

دوسری جانب ایرانی میڈیا رپورٹس میں کہا گیا ہے کہ لبنان میں بڑھتے ہوئے اسرائیلی حملوں کے باعث ایران نے امریکا کے ساتھ پیغامات کے تبادلے کا عمل روک دیا ہے۔ اس پیش رفت نے خطے میں سفارتی سرگرمیوں پر مزید سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق ایران کا مؤقف ہے کہ لبنان اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کے خاتمے سے متعلق اس کے مطالبات پورے ہونے تک کسی قسم کے مذاکرات ممکن نہیں ہوں گے۔ یہ مؤقف خطے میں جاری کشیدگی کی شدت کو ظاہر کرتا ہے۔

اسرائیل حزب اللہ جنگ بندی سے متعلق ٹرمپ کے دعوے نے عالمی توجہ حاصل کی ہے، تاہم اس مبینہ معاہدے کی حتمی حیثیت ابھی واضح نہیں۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ تمام متعلقہ فریقوں کی باضابطہ تصدیق کے بعد ہی صورتحال کی مکمل تصویر سامنے آ سکے گی۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین