ایران کی حزب اللہ کی حمایت

ایران کی حزب اللہ کی حمایت سے وسیع امن معاہدے پر سوالات

ایران کی حزب اللہ کی حمایت نے مشرقِ وسطیٰ میں جاری امن کوششوں کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔ ایرانی حکام نے ایک بار پھر لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ کسی بھی وسیع امن معاہدے میں جنوبی لبنان سے اسرائیلی افواج کے انخلا کو شامل کیا جائے۔

ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے ایک لبنانی ٹی وی چینل سے گفتگو میں کہا کہ خطے میں جنگ اس وقت تک مکمل طور پر ختم نہیں ہوگی جب تک لبنان میں جاری لڑائی بھی ختم نہ ہو جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ اسرائیلی افواج کو ان علاقوں سے واپس جانا ہوگا جن پر انہوں نے قبضہ کر رکھا ہے۔

موجودہ کشیدگی کا آغاز مارچ کے اوائل میں اس وقت ہوا جب امریکا اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائیاں کیں۔ اس کے بعد حزب اللہ نے اسرائیلی اہداف کے خلاف حملوں میں اضافہ کیا اور کہا کہ وہ ایران کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کر رہی ہے۔

ایران کی حزب اللہ کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے ایرانی سپریم لیڈر کے مشیر محسن رضائی نے کہا کہ حزب اللہ نے حالیہ جنگ میں بڑی قربانیاں دی ہیں۔ ان کے مطابق ایران اپنے اتحادی کے ساتھ کھڑا ہے اور اپنی ذمہ داریوں کو پورا کرنے کے لیے پرعزم ہے۔

دوسری جانب حزب اللہ کے سربراہ نعیم قاسم نے امریکا کی ثالثی میں ہونے والے ایک مجوزہ معاہدے کو مسترد کر دیا۔ اطلاعات کے مطابق اس معاہدے میں اسرائیلی انخلا کی واضح ضمانت موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے حزب اللہ نے اسے قبول کرنے سے انکار کیا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے لبنان میں امن کے امکانات کے حوالے سے مثبت بیان دیا اور کہا کہ پیش رفت ہو رہی ہے۔ تاہم لبنان، غزہ، شمالی اسرائیل اور خلیجی خطے کے بعض حصوں میں وقفے وقفے سے جھڑپیں جاری ہیں، جس سے صورتحال غیر یقینی بنی ہوئی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایران کی حزب اللہ کی حمایت مستقبل میں تہران اور واشنگٹن کے درمیان مذاکرات پر اثر انداز ہو سکتی ہے۔ لبنان کی صورتحال، اقتصادی پابندیاں، آبنائے ہرمز کی سلامتی اور ایران کے جوہری پروگرام جیسے معاملات اب بھی کسی جامع امن معاہدے کی راہ میں اہم رکاوٹ سمجھے جا رہے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین