تہران: ایرانی پاسدارانِ انقلاب کی فورس القدس کے کمانڈر اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ آبنائے باب المندب خطے میں مزاحمتی قوتوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری ثابت ہوئی ہے، جس نے علاقائی تنازعات میں طاقت کے توازن کو متاثر کیا۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے ایک انٹرویو میں اسماعیل قانی نے دعویٰ کیا کہ ایران کے خلاف ہونے والی جنگ نے امریکا کی ساکھ کو نقصان پہنچایا جبکہ اسرائیل کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا۔ ان کے مطابق حالیہ واقعات نے خطے کی سیاسی اور عسکری صورتحال پر گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
فورس القدس کے کمانڈر نے کہا کہ شدید فوجی دباؤ اور مسلسل حملوں کے باوجود فلسطین اور لبنان میں سرگرم مزاحمتی گروہوں نے اپنی پوزیشن برقرار رکھی۔ ان کا کہنا تھا کہ مزاحمتی تنظیموں نے مشکل حالات میں بھی اپنی سرگرمیاں جاری رکھیں اور میدان سے دستبردار نہیں ہوئیں۔
انہوں نے حزب اللہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ تنظیم نے 104 روز تک ایران کے ساتھ مل کر جدوجہد کی اور اس کی صلاحیتوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکا۔ ان کے مطابق مزاحمتی تحریکیں خطے میں اب بھی مؤثر کردار ادا کر رہی ہیں۔
اسماعیل قانی نے آبنائے باب المندب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ یہ آبی گزرگاہ مزاحمتی قوتوں کے لیے ایک "وننگ کارڈ” ثابت ہوئی۔ ان کے بقول بعض جدید امریکی جنگی جہاز بھی بحیرہ احمر میں مکمل اعتماد کے ساتھ نقل و حرکت کرنے سے گریزاں رہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایرانی مذاکراتی ٹیم نے سفارتی سطح پر مکمل اختیارات کے ساتھ دشمن فریقوں اور ثالثوں سے بات چیت کی۔ ان کے مطابق مذاکرات اور سفارتکاری کے ذریعے ایران نے اپنے قومی مفادات کے تحفظ کی کوشش جاری رکھی۔
کمانڈر فورس القدس کا کہنا تھا کہ لبنان کے معاملے میں میدان اور سفارتکاری دونوں نے مزاحمت کے جذبے کا اظہار کیا۔ ان کے مطابق خطے میں جاری سیاسی اور عسکری تبدیلیاں مستقبل کی علاقائی حکمت عملیوں پر بھی اثر انداز ہوں گی۔