اسرائیل ایران تنازع

اسرائیل ایران تنازع نے خطے میں نئی تشویش پیدا کر دی

اسرائیل ایران تنازع پیر کے روز مزید شدت اختیار کر گیا جب دونوں ممالک نے ایک دوسرے پر جوابی حملے کیے۔ تازہ کارروائیوں نے مشرق وسطیٰ میں بڑے پیمانے پر جنگ کے خدشات کو دوبارہ بڑھا دیا ہے اور خطے کے امن پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔

اسرائیل نے ایران کے وسطی اور مغربی علاقوں میں کئی مقامات کو نشانہ بنایا اور دعویٰ کیا کہ یہ کارروائی ایرانی میزائل حملوں کے جواب میں کی گئی۔ دوسری جانب ایران کے مختلف شہروں میں دھماکوں کی اطلاعات سامنے آئیں جبکہ اسرائیل میں فضائی دفاعی نظام کو فعال کر دیا گیا۔

ایران کی پاسدارانِ انقلاب نے کہا کہ اس نے اسرائیل کے فوجی اہداف پر حملے کیے ہیں۔ ایرانی حکام کے مطابق یہ کارروائی ان اسرائیلی حملوں کے جواب میں کی گئی جن میں ریڈار تنصیبات اور دیگر اہم مقامات کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اسرائیل ایران تنازع میں نئی شدت عالمی توانائی منڈیوں اور بین الاقوامی تجارت پر اثر ڈال سکتی ہے۔ اہم بحری راستوں میں کسی بھی قسم کی کشیدگی عالمی سپلائی چین کے لیے چیلنج بن سکتی ہے۔

اس دوران مختلف ممالک سفارتی کوششوں میں مصروف ہیں تاکہ جنگ بندی کو برقرار رکھا جا سکے۔ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکیہ اور مصر سمیت کئی علاقائی ممالک دونوں فریقوں سے رابطے کر رہے ہیں تاکہ حالات مزید خراب نہ ہوں۔

یمن کے حوثی گروپ نے بھی ایران کی حمایت کا اعلان کرتے ہوئے اسرائیل کے خلاف کارروائیوں کی ذمہ داری قبول کی۔ گروپ نے خبردار کیا کہ اسرائیل سے منسلک جہاز دوبارہ بحیرہ احمر میں خطرات کا سامنا کر سکتے ہیں۔

ماہرین کے مطابق اسرائیل ایران تنازع اب ایک نازک مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ اگر سفارتی کوششیں کامیاب نہ ہوئیں تو خطے میں عدم استحکام بڑھ سکتا ہے، جبکہ کامیاب مذاکرات مستقبل میں کشیدگی کم کرنے کا راستہ ہموار کر سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین