بجٹ 2026-27 تجارتی رکاوٹیں

بجٹ 2026-27: حکومت کا تجارتی رکاوٹیں ختم اور ٹیرف کم کرنے کا فیصلہ

وفاقی حکومت نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں معیشت کو سہارا دینے اور کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دینے کے لیے غیر ضروری تجارتی پابندیوں اور رکاوٹوں کو ختم کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ ذرائع کے مطابق حکومت درآمدات اور برآمدات کے نظام کو آسان بنانے کے لیے متعدد اصلاحات متعارف کرانے جا رہی ہے، جن سے ملکی تجارت اور سرمایہ کاری کو فروغ ملنے کی توقع ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے مالی سال کے بجٹ میں 60 سے 70 غیر ضروری تجارتی پابندیوں کو ختم کیا جائے گا، جبکہ درآمدات اور برآمدات پر عائد 2,600 سے زائد رکاوٹوں کو مرحلہ وار کم کرنے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اقدامات کاروباری لاگت کم کرنے اور تجارتی سرگرمیوں میں تیزی لانے میں مددگار ثابت ہوں گے۔

وزارت خزانہ کے ذرائع کے مطابق International Monetary Fund کی تجاویز کی روشنی میں اوسط ٹیرف کو 10.7 فیصد سے کم کر کے 9.5 فیصد تک لانے کی تجویز زیر غور ہے۔ حکومت نے 2030 تک اوسط ٹیرف کو مزید کم کر کے 7.4 فیصد تک لانے کا ہدف بھی مقرر کیا ہے۔

بجٹ تجاویز کے تحت گاڑیوں پر عائد ریگولیٹری ڈیوٹی کو آئندہ چار برسوں میں 40 فیصد سے مرحلہ وار کم کر کے صفر کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ اس کے علاوہ ٹیکسٹائل، فارماسیوٹیکل، لیدر، کیمیکل اور دیگر اہم صنعتی شعبوں کو درپیش رکاوٹوں کو بھی دور کرنے پر غور کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق بجٹ 2026-27 میں کاروبار میں آسانی پیدا کرنے کے لیے خصوصی اقدامات شامل ہوں گے۔ اس سلسلے میں ٹیکسوں کے علاوہ دیگر ضابطہ جاتی اور انتظامی رکاوٹوں کو کم کرنے کی تجاویز بھی زیر غور ہیں تاکہ سرمایہ کاروں اور کاروباری اداروں کو بہتر ماحول فراہم کیا جا سکے۔

ذرائع کے مطابق درآمدی ڈیوٹیز میں بھی بتدریج کمی کی جائے گی۔ نومبر 2026 تک ایکسپورٹ اور امپورٹ پالیسی آرڈرز میں مزید ترامیم متوقع ہیں، جبکہ مختلف شعبوں میں نان ٹیرف رکاوٹوں کے خاتمے کے لیے مرحلہ وار منصوبہ بندی کی جا رہی ہے۔

وزارت خزانہ کا کہنا ہے کہ نیشنل ٹیرف پالیسی 2025-30 کے تحت نافذ کی جانے والی یہ اصلاحات درآمدی لاگت میں کمی، برآمدات میں اضافے اور سرمایہ کاری کے فروغ میں اہم کردار ادا کریں گی۔ حکام کو امید ہے کہ ان اقدامات سے ملکی صنعتوں کی مسابقتی صلاحیت بہتر ہوگی، روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے اور معیشت کو پائیدار ترقی کی راہ پر گامزن کرنے میں مدد ملے گی۔ ان اصلاحات کی حتمی منظوری کابینہ کمیٹی برائے ریگولیٹری ریفارمز دے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین