گلگت بلتستان شمسی توانائی منصوبہ

گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے گلگت بلتستان میں 100 میگاواٹ شمسی توانائی منصوبہ شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا مقصد علاقے میں بجلی کی فراہمی کو بہتر بنانا اور قابلِ تجدید توانائی کے استعمال کو فروغ دینا ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف کی زیر صدارت منعقدہ اجلاس میں گلگت بلتستان کے لیے مجوزہ شمسی توانائی منصوبے کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس میں متعلقہ حکام نے منصوبے کی پیش رفت اور مختلف مراحل پر بریفنگ دی۔

بریفنگ کے دوران بتایا گیا کہ گلگت بلتستان کی سرکاری عمارتوں کے لیے 18 میگاواٹ شمسی توانائی کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے، جسے دسمبر 2026 تک مکمل کرنے کا ہدف مقرر کیا گیا ہے۔ اس منصوبے سے سرکاری اداروں کی توانائی ضروریات کو ماحول دوست طریقے سے پورا کیا جا سکے گا۔

حکام نے مزید آگاہ کیا کہ گلگت، اسکردو، چلاس اور خپلو میں گھریلو صارفین کے لیے 82 میگاواٹ کے اضافی شمسی توانائی منصوبے پر بھی کام جاری ہے۔ اس اقدام سے مقامی آبادی کو سستی اور پائیدار بجلی کی فراہمی میں مدد ملے گی۔

اجلاس کے دوران وزیراعظم نے منصوبے پر کام کی رفتار مزید تیز کرنے کی ہدایت دیتے ہوئے کہا کہ عوامی مفاد کے اس منصوبے کو جلد از جلد مکمل کیا جائے تاکہ شہری اس کے فوائد سے مستفید ہو سکیں۔

شہباز شریف نے منصوبے کے تمام مراحل میں شفافیت کو یقینی بنانے پر زور دیا اور ہدایت کی کہ کام کے معیار اور پیش رفت کی نگرانی کے لیے غیر جانبدار تھرڈ پارٹی ویلیڈیشن کا نظام اپنایا جائے۔

وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ 100 میگاواٹ شمسی بجلی منصوبے کے تمام اخراجات وفاقی حکومت برداشت کرے گی، جو خطے کی توانائی ضروریات پوری کرنے اور معاشی ترقی میں اہم کردار ادا کرے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

نمایاں زمرے

تازہ ترین