این ڈی ایم اے سیلابی الرٹ کے تحت ملک کے مختلف علاقوں میں 16 سے 20 جون کے دوران شدید بارشوں، آندھی اور گرج چمک کے امکانات ظاہر کیے گئے ہیں۔ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی نے خبردار کیا ہے کہ مغربی ہواؤں کا نیا سلسلہ شمالی اور بالائی علاقوں میں سیلاب جیسی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔
محکمہ کی ایڈوائزری کے مطابق پنجاب کے متعدد اضلاع میں تیز ہواؤں اور گرج چمک کے ساتھ بارش متوقع ہے۔ اسلام آباد، راولپنڈی، مری، اٹک، چکوال، سیالکوٹ، گوجرانوالہ، فیصل آباد، بہاولپور اور دیگر علاقوں میں موسمی سرگرمیوں میں شدت آ سکتی ہے۔
این ڈی ایم اے سیلابی الرٹ کے مطابق خیبرپختونخوا کے مختلف اضلاع بشمول چترال، سوات، دیر، مانسہرہ، ایبٹ آباد، پشاور، کوہاٹ، بنوں اور ڈیرہ اسماعیل خان میں بھی بارش اور گرج چمک کا امکان ہے۔ متعلقہ اداروں کو ممکنہ ہنگامی صورتحال کے لیے تیار رہنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
گلگت بلتستان اور آزاد کشمیر کے علاقوں سکردو، ہنزہ، غذر، دیامر، مظفرآباد، وادی نیلم، باغ اور راولاکوٹ میں بھی بارشوں کی پیشگوئی کی گئی ہے۔ این ڈی ایم اے نے خبردار کیا ہے کہ بارش اور بڑھتے ہوئے درجہ حرارت کے باعث دریاؤں اور ندی نالوں میں پانی کی سطح بلند ہو سکتی ہے۔
اس این ڈی ایم اے سیلابی الرٹ کا ایک اہم پہلو گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے سے پیدا ہونے والے سیلابی خطرات ہیں۔ تیزی سے پگھلتے گلیشیئر شمالی علاقوں میں اچانک سیلابی ریلوں کا سبب بن سکتے ہیں جس سے مقامی آبادی اور انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔
ادارے نے حسن آباد، ششپر، گلکن، گل مت، پاسو، نگر، غذر، سکردو اور شگر کو ایسے علاقوں میں شامل کیا ہے جہاں گلیشیائی جھیلوں کے پھٹنے کے خطرات زیادہ ہیں۔ ان علاقوں میں پانی کے بہاؤ میں اچانک اضافہ سڑکوں، کھیتوں اور آبادیوں کو متاثر کر سکتا ہے۔
این ڈی ایم اے نے تمام متعلقہ اداروں کو ہائی الرٹ رہنے اور صورتحال کی مسلسل نگرانی کرنے کی ہدایت دی ہے۔ شمالی علاقوں کا سفر کرنے والے سیاحوں اور مسافروں کو روانگی سے قبل موسم اور سڑکوں کی صورتحال ضرور چیک کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔ لینڈ سلائیڈنگ اور رابطہ سڑکوں کی عارضی بندش کا بھی خدشہ ظاہر کیا گیا ہے۔