ٹرمپ عراقی وزیراعظم ملاقات جولائی میں ہونے جا رہی ہے، جس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ عراقی وزیراعظم علی الزیدی کا وائٹ ہاؤس میں استقبال کریں گے۔ اس پیش رفت کا اعلان عراقی وزیراعظم کے دفتر اور بغداد میں امریکی سفارت خانے کی جانب سے جاری مشترکہ بیان میں کیا گیا۔
بیان کے مطابق امریکی خصوصی صدارتی ایلچی ٹام باراک نے وزیراعظم علی الزیدی کو صدر ٹرمپ کا پیغام پہنچایا اور کہا کہ امریکی صدر ان کا وائٹ ہاؤس میں خیرمقدم کرنے کے منتظر ہیں۔ ملاقات میں دوطرفہ تعلقات کے مستقبل پر تفصیلی تبادلہ خیال متوقع ہے۔
یہ ٹرمپ عراقی وزیراعظم ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب امریکہ اور عراق خطے میں استحکام، سلامتی اور اقتصادی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ عراق مشرق وسطیٰ میں امریکہ کا ایک اہم شراکت دار سمجھا جاتا ہے۔
ٹام باراک کے بغداد کے حالیہ دورے کے دوران وزیراعظم علی الزیدی کے ساتھ مختلف اہم امور پر گفتگو ہوئی۔ ان میں ریاستی اختیار سے باہر سرگرم مسلح گروہوں کو غیر مسلح کرنے اور قومی اداروں کو مضبوط بنانے جیسے موضوعات شامل تھے۔
ماہرین کے مطابق وائٹ ہاؤس میں ہونے والی ملاقات دونوں ممالک کو باہمی تعاون کے نئے مواقع تلاش کرنے کا موقع فراہم کرے گی۔ سرمایہ کاری، تجارت اور علاقائی سفارت کاری بھی ممکنہ طور پر ایجنڈے کا حصہ ہوں گے۔
ٹرمپ عراقی وزیراعظم ملاقات ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب مشرق وسطیٰ میں مختلف سفارتی سرگرمیاں جاری ہیں۔ خطے میں بڑھتے ہوئے سیاسی رابطوں نے عراق کی اہمیت کو مزید اجاگر کیا ہے۔
دونوں ممالک کے حکام نے مجوزہ ملاقات کے حوالے سے مثبت توقعات کا اظہار کیا ہے۔ امید کی جا رہی ہے کہ یہ مذاکرات امریکہ اور عراق کے تعلقات کو مزید مضبوط بنانے اور مشترکہ چیلنجز سے نمٹنے میں مددگار ثابت ہوں گے۔