شی میانمار ملاقات کے دوران چینی صدر شی جن پنگ نے میانمار کے صدر من آنگ ہلائنگ کی سیاسی قیادت کی حمایت کا اظہار کرتے ہوئے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو مزید مستحکم بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔ منگل کو بیجنگ میں ہونے والی اس اہم ملاقات میں باہمی تعاون اور علاقائی ترقی کے مختلف پہلوؤں پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
شی جن پنگ نے کہا کہ چین اور میانمار کے درمیان دیرینہ دوستی کو مزید فروغ دیا جائے گا اور جامع اسٹریٹجک تعاون کو وسعت دی جائے گی۔ انہوں نے دونوں ممالک کے عوام کے درمیان تعلقات کو مضبوط بنانے اور باہمی مفادات کے شعبوں میں پیش رفت کی ضرورت پر زور دیا۔
یہ دورہ اس لحاظ سے اہم ہے کہ من آنگ ہلائنگ صدر بننے کے بعد پہلی مرتبہ چین کے سرکاری دورے پر پہنچے ہیں۔ شی میانمار ملاقات کو دونوں ممالک کے درمیان قریبی سفارتی روابط کے تسلسل کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
ملاقات سے قبل بیجنگ کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں من آنگ ہلائنگ کے اعزاز میں سرکاری استقبالیہ تقریب منعقد کی گئی۔ بعد ازاں دونوں رہنماؤں کی موجودگی میں 18 مفاہمتی یادداشتوں پر دستخط کیے گئے جن میں تجارت، ٹرانسپورٹ، صحت، قدرتی آفات سے نمٹنے اور میڈیا تعاون شامل ہیں۔
چین میانمار کا ایک اہم اقتصادی اور سفارتی شراکت دار ہے۔ بیجنگ نے میانمار میں استحکام کی کوششوں کی حمایت کرتے ہوئے بیلٹ اینڈ روڈ منصوبوں کے تحت متعدد اہم سرمایہ کاری منصوبے بھی شروع کر رکھے ہیں۔
شی میانمار ملاقات میں علاقائی امن اور ترقی کے موضوع پر بھی گفتگو ہوئی۔ شی جن پنگ نے کہا کہ دونوں ممالک کے درمیان مضبوط تعلقات خطے میں معاشی ترقی اور رابطوں کے فروغ میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
گزشتہ ایک سال کے دوران یہ شی جن پنگ اور من آنگ ہلائنگ کی دوسری ملاقات تھی۔ مبصرین کے مطابق مسلسل اعلیٰ سطحی رابطے چین اور میانمار کے بڑھتے ہوئے تعاون کی عکاسی کرتے ہیں اور میانمار کی بین الاقوامی سفارتی حیثیت کو مزید تقویت دے سکتے ہیں۔