پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ کے حوالے سے پاکستان کرکٹ بورڈ نے اہم فیصلہ کرتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کنٹریکٹ حاصل کرنے والے کھلاڑیوں کی تعداد اور ان کی کیٹیگریز کو عوامی سطح پر ظاہر نہیں کیا جائے گا۔ یہ فیصلہ ماضی کے طریقہ کار سے مختلف ہے جہاں مرکزی معاہدوں کی تفصیلات سامنے لائی جاتی تھیں۔
پی سی بی حکام کے مطابق کتنے کھلاڑیوں کو سینٹرل کنٹریکٹ دیا جائے گا اور انہیں کس کیٹیگری میں رکھا جائے گا، یہ مکمل طور پر سلیکشن سے متعلق معاملہ ہے۔ اسی وجہ سے ان تفصیلات کو خفیہ رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ نئے پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ نظام کے تحت کھلاڑیوں کے لیے ڈومیسٹک کرکٹ کھیلنے کی مخصوص شرائط بھی متعارف کرائی گئی ہیں۔ ہر کنٹریکٹڈ کھلاڑی کو اپنے متعلقہ ٹریک اور فارمیٹ کے مطابق ڈومیسٹک مقابلوں میں شرکت کرنا ہوگی۔
اطلاعات کے مطابق کھلاڑیوں کو مطلوبہ ڈومیسٹک میچز کی تعداد سے بھی آگاہ کر دیا گیا ہے۔ امکان ہے کہ کنٹریکٹڈ کھلاڑیوں کو کم از کم پانچ فرسٹ کلاس اور دس لسٹ اے میچز کھیلنے ہوں گے تاکہ وہ قومی سلیکشن کے لیے دستیاب رہیں۔
نئے پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ ماڈل کے تحت بین الاقوامی مصروفیات نہ ہونے کی صورت میں کھلاڑیوں کو لازمی طور پر ڈومیسٹک کرکٹ کے لیے دستیاب رہنا ہوگا۔ اس اقدام کا مقصد ملکی کرکٹ کے معیار کو مزید بہتر بنانا ہے۔
ذرائع کے مطابق سینٹرل کنٹریکٹ حاصل کرنے والے تمام کھلاڑی تینوں فارمیٹس یعنی ٹیسٹ، ون ڈے اور ٹی20 کرکٹ کھیلنے کے اہل ہوں گے۔ ضرورت پڑنے پر کسی بھی ٹریک کے کھلاڑی کو قومی ٹیم میں شامل کیا جا سکے گا۔
کرکٹ حلقوں کے مطابق پی سی بی سینٹرل کنٹریکٹ پالیسی میں یہ تبدیلیاں ڈومیسٹک کرکٹ کو مضبوط بنانے اور کھلاڑیوں کی مسلسل کارکردگی کو یقینی بنانے کے لیے کی جا رہی ہیں۔ اس سے مستقبل میں قومی ٹیم کے انتخاب کے عمل کو بھی مزید مؤثر بنانے میں مدد مل سکتی ہے۔